زکوٰۃکانصاباورشرائط
دسلاکھکیقسطوںپرفروختشدہگاڑیپرکتنیزکوٰۃہوگی؟
سوال:۔
میں نے ایک گاڑی ساڑھے آٹھ سال کے اندر قسطوں کی ادائیگی کے معاہدے کے تحت مبلغ دس لاکھ میں فروخت کی، اس شرط پر کہ وہ لوگ مجھے ایک سال میں صرف ایک لاکھ بیس ہزار دیتے ہیں۔ پوچھنا یہ ہے کہ آیا میں زکوٰۃ ہر سال دس لاکھ روپے کی ادا کروں یا ایک لاکھ بیس ہزار کی ادا کروں؟
جواب:۔
جب آپ نے دس لاکھ میں گاڑی بیچ دی تو وہ رقم اس شخص کے ذمے قرض ہوگئی، اور قرض کی رقم پر ہر سال زکوٰۃ لازم ہے، اس لئے آپ ہر سال زکوٰۃ ادا کیا کریں۔(۱)
- (۱) واعلم ان الدیون عند الْإمام ثلاثۃ: قوی، ومتوسط، وضعیف، فتجب زکٰوتھا إذا تم نصابًا وحال الحول لٰـکن لَا فورًا بل عند قبض أربعین درھمًا من الدین القوی کقرض وبدل مال تجارۃ فکلما قبض أربعین درھمًا یلزمہ درھم وعند قبض مأتین منہ لغیرھما أی من بدل مال لغیر تجارۃ وھو المتوسط کثمن سائمۃ وعبید خدمۃ ونحوھما ۔۔۔ ویعتبر ما مضٰی من الحول قبل القبض فی الأصح (قولہ ویعتبر ما مضی إلخ) ای فی الدین المتوسط لأن الخلاف فیہ، أما القوی فلا خلاف فیہ لما فی المحیط من أنہ تجب الزکٰوۃ فیہ بحول الأصل۔ (رد المحتار مع الدر المختار ج:۲ ص:۳۰۵، مطلب فی وجوب الزکاۃ فی دین المرصد، أیضًا خلاصۃ الفتاویٰ، کتاب الزکاۃ، الفصل السادس فی الدیون ج:۱ ص:۲۳۸، طبع رشیدیہ)۔

