زکوٰۃکانصاباورشرائط
چھلاکھکیگاڑیتینہزارروپےماہانہاَقساطپرفروختکرنےوالےپرکتنیزکوٰۃآئےگی؟
سوال:۔
کیا فرماتے ہیں مفتیان وعلمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ آدمی چھ لاکھ کی گاڑی فروخت کرتا ہے، اور قیمت کی وصولی تین ہزار ماہانہ قسط کی صورت میں کرتا ہے، تو سال میں تقریباً چھتیس ہزار روپے وصول ہوجاتے ہیں، اِحتمال چھتیس ہزار سے کم کا راجح ہے بہ نسبت اس سے زائد کے، تو اس صورت میں بھی زکوٰۃ کس طرح دی جائے گی؟ کیا چھ لاکھ کی یا چھتیس ہزار کی یا چھتیس ہزار سے کم جتنی بھی سال میں وصول ہوجائے۔ ایک بات یہ بھی ہے کہ کبھی کبھار یہ چھ کے چھ لاکھ ضائع بھی ہوجاتے ہیں، یعنی عموماً مل ہی جاتے ہیں لیکن ضائع ہونے کا بھی اِحتمال کچھ نہ کچھ ہے۔ قرآن وحدیث کی روشنی میں مسئلے کی وضاحت فرمائیں۔
جواب:۔
چونکہ اس شخص نے چھ لاکھ کی گاڑی بیچی ہے تو گویا اس کا چھ لاکھ روپیہ خریدار کے ذمے ہے، ان میں سے چھتیس ہزار تو اس کو سالانہ وصول ہو رہے ہیں، اور باقی رقم بذمہ خریدار ہے، اور شریعت کا اُصول یہ ہے کہ جس شخص نے کسی کو اُدھار رقم دی ہو، ایک سال کے لئے یا چند سالوں کے لئے، تو اس رقم کی زکوٰۃ ہر سال مالک کے ذمے یعنی اُدھار دینے والے کے ذمے ہے، واللہ اعلم!(۱)
- (۱) واعلم ان الدیون عند الْإمام ثلاثۃ: قوی، ومتوسط، وضعیف، فتجب زکٰوتھا إذا تم نصابًا وحال الحول لٰـکن لَا فورًا بل عند قبض أربعین درھما من الدین القوی کقرض وبدل مال تجارۃ فکلما قبض أربعین درھمًا یلزمہ درھم وعند قبض مأتین منہ لغیرھا أی من بدل مال لغیر تجارۃ وھو المتوسط کثمن سائمۃ وعبید خدمۃ ونحوھما ۔۔۔ ویعتبر ما مضٰی من الحول قبل القبض فی الأصح۔ (قولہ ویعتبر ما مضی من الحول) أی فی الدین المتوسط لأن الخلاف فیہ ۔۔۔إلخ۔ (درمختار مع رد المحتار ج:۲ ص:۳۰۵، مطلب فی وجوب الزکاۃ فی دین المرصد، وأیضًا خلاصۃ الفتاویٰ، الفصل السادس فی الدیون ج:۱ ص:۲۳۸)۔

