زکوٰۃکانصاباورشرائط
زیوراتکےعلاوہجوچیزیںزیرِاستعمالہوںانپرزکوٰۃنہیں
سوال:۔
ایک آدمی کے پاس کچھ بھینسیں ہیں، کچھ کشتیاں ہیں جن میں وہ مچھلی کا شکار کرتا ہے، اور جال بھی ہے، جال کی قیمت ساٹھ ستر ہزار روپے ہے، اور تمام چیزوں کی مالیت تقریباً ۴ لاکھ بنتی ہے، ان پر زکوٰۃ دینی ہوگی یا نہیں؟
جواب:۔
یہ چیزیں استعمال کی ہیں، ان پر زکوٰۃ نہیں،(۱) البتہ زیورات پر زکوٰۃ ہے، خواہ وہ پہنے ہوئے رہتے ہوں۔(۲)
- (۱) (ولیس فی دور السکنٰی وثیاب البدن وأثاث المنزل ودواب الرکوب وعبید الخدمۃ وسلاح الْإستعمال زکٰوۃ لأنھا مشغولۃ بالحاجۃ الأصلیۃ ولیست بنامیۃ أیضًا)۔ الحاجۃ الأصلیۃ ما یدفع الھلاک عن الْإنسان تحقیقًا أو تقدیرًا ۔۔۔ (وآلَات المحترفین لما قلنا) إشارۃ إلیی ما قلنا من قولہ لأنھا مشغولۃ بالحاجۃ الأصلیۃ ولیست بنامیۃ، وآلَات المحترفین مثل قدر الطباخین والصباغین ۔۔۔ وظروف الأمتعۃ۔ (البنایۃ فی شرح الھدایۃ ج:۴ ص:۱۹، کتاب الزکاۃ)۔
- (۲) واللازم ۔۔۔ فی مضروب کل منھما ومعمولہ ولو تبرًا أو حلیا مطلقًا مباح الْإستعمال أو لَا ولو للتجمل والنفقۃ لأنھما خلقا أثمانا فیزکیھما کیف کانا ۔۔۔إلخ۔ (قولہ أو حلیا) ما تتحلی بہ المرأۃ من ذھب أو فضۃ ۔۔۔إلخ۔ (رد المحتار مع الدر المختار ج:۲ ص:۲۹۸، کتاب الزکاۃ، باب زکاۃ المال)۔

