بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

زکوٰۃ‌کا‌نصاب‌اور‌شرائط

چندے‌کی‌زکوٰۃ

سوال:۔

ہم ایک برادری کے لوگ ایک مشترکہ مقصد کے لئے (یعنی خدانخواستہ اگر انہی لوگوں میں سے کسی کی موت واقع ہوجائے تو اس کی لاش کو اس کے ورثاء کے حوالے کرنے کے لئے جو اخراجات وغیرہ ہوتے ہیں) چندہ اکٹھا کرلیتے ہیں اور یہی چندہ کسی کا زیادہ ہوتا ہے کسی کا کم، لہٰذا حل طلب مسئلہ یہ ہے کہ اگر ایک سال اس چندہ کا گزر جائے اور مجموعی طور پر نصابِ زکوٰۃ پر پورا اُترے تو کیا زکوٰۃ واجب الادا ہوگی یا نہیں؟ اگر زکوٰۃ واجب الادا ہو تو اس کا طریقۂ ادائیگی کیا ہوگا؟

جواب:۔

جو رقم کسی کارِ خیر کے چندے میں دے دی جائے، اس کی حیثیت مالِ وقف کی ہوجاتی ہے، اور وہ چندہ دینے والوں کی مِلک سے خارج ہوجاتی ہے، اس لئے اس پر زکوٰۃ نہیں۔(۱)

  1. (۱) وسببہ أی سبب إفتراضھا ملک نصاب حولی تام ۔۔۔إلخ۔ (درمختار) (قولہ ملک نصاب) لَا زکٰوۃ فی سوائم الوقف والخیل المسبلۃ لعدم الملک۔ (درمختار مع رد المحتار ج:۲ ص:۲۵۹، کتاب الزکاۃ)۔