بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

زکوٰۃ‌کا‌نصاب‌اور‌شرائط

مکان‌کی‌خرید‌پر‌خرچ‌ہونے‌والی‌رقم‌پر‌زکوٰۃ

سوال:۔

ایک ماہ قبل مکان کا سودا کرچکے ہیں، ہم نے دو ماہ کا وقت لیا تھا جو کہ رمضان میں ختم ہو رہا ہے، بیعانہ ایڈوانس ادا کرچکے ہیں، اب ادائیگیٔ زکوٰۃ کس طرح ہوگی؟ کیونکہ رقم تو اب ہماری نہیں ہے، مالک مکان کی ہوگئی، اب ہمارا تو صرف مکان ہوگیا، کیا اس رقم سے زکوٰۃ ادا کریں جو کہ مالک کو دینی ہے؟

جواب:۔

اگر زکوٰۃ ادا کرنے سے قبل مکان کی قیمت ادا کردی تو اس پر زکوٰۃ واجب نہیں،(۱) اور اگر سال ختم ہوگیا اب تک مکان کے پیسے ادا نہیں کئے بلکہ بعد میں وقتِ مقرّرہ پر ادا کریں گے تو اس سے زکوٰۃ ساقط نہ ہوگی، اس پر زکوٰۃ واجب ہے۔(۲)

  1. (۱) وأما شروط وجوبھا فمنھا ۔۔۔ کون المال نصابًا فلا تجب فی أقل منہ، ھٰکذا فی العینی شرح الکنز۔ (فتاویٰ عالمگیری ج:۱ ص:۱۷۲)، وإذا کان النصاب کاملًا فی طرفی الحول فنقصانہ فیما بین ذٰلک لَا یسقط الزکٰوۃ لأنہ یشق اعتبار الکمال فی أثنائہ أی یشق ۔۔۔ لأنہ قد یزید وقد ینقص ۔۔۔ وأما لَابُد منہ أی من کمال النصاب فی إبتدائہ فی إبتداء الحول للإنعقاد أی لِانعقاد السبب وتحقق الغنا۔ (البنایۃ فی شرح الھدایۃ ج:۴ ص:۱۰۶، کتاب الزکاۃ)۔
  2. (۲) وسببہ أی سبب إفتراضھا ملک نصاب حولی نسبۃ للحول لحولَانہ علیہ۔ (الدر المختار ج:۲ ص:۲۵۹)۔