بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

زکوٰۃ‌کا‌نصاب‌اور‌شرائط

کرائے‌پر‌دئیے‌گئے‌مکان‌کی‌زکوٰۃ

سوال:۔

میرا ایک مکان کراچی میں ہے، وہ مکان میرے نام ہے، اگر میں اسے فروخت کروں تو اس کی قیمت اس وقت پچّیس لاکھ یا اس سے زیادہ ہوگی، تیس لاکھ تک بھی ہوسکتی ہے۔ وہ میں نے کرائے پر دیا ہوا ہے، اسے کرائے پر دئیے ہوئے نو مہینے ہوگئے ہیں، اس کا کرایہ ساڑھے پانچ ہزار روپے ہے، میں یہ معلوم کرنا چاہتا ہوں کہ اس کرائے کے حساب سے مجھے کتنی زکوٰۃ دینی ہوگی یا مکان کی قیمت کے لحاظ سے؟ نیز کتنی زکوٰۃ سال بھر میں دینی چاہئے؟ مزید یہ کہ میری تین بیٹیاں ہیں، مکان کا کرایہ ان تینوں بیٹیوں کے پاس جاتا ہے، اس مکان کی زکوٰۃ مجھے دینی ہے یا بیٹیوں کو، کیونکہ مکان میرے نام ہے؟

جواب:۔

سال کے بعد چالیسواں حصہ زکوٰۃ ادا کردیا کریں، یعنی جتنی سال میں آپ کو آمدنی ہوتی ہے، اس کا چالیسواں حصہ زکوٰۃ میں دے دیا کریں۔ اور مکان کا کرایہ آپ ادا کرکے بیٹیوں کو حصہ دے دیا کریں، مکان کی زکوٰۃ بہرحال آپ کے ذمے ہے۔(۱)

  1. (۱) وتجب علی الفور عند تمام الحول۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۱۷۰، کتاب الزکاۃ، الباب الأوّل)۔ ومرادہ تملیک جزء من مالہ وھو ربع العشر أو ما یقوم مقامہ۔ (بحر الرائق ج:۲ ص:۲۱۶)۔