بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

زکوٰۃ‌کا‌نصاب‌اور‌شرائط

رہائشی‌مکان‌اور‌کاروبار‌کے‌دُکان‌پر‌زکوٰۃ

سوال:۔

میرے پاس رہائش کے لئے ایک مکان اور کاروبار کے لئے ایک دُکان ہے، یہ دونوں میرے والد کے نام پر ہیں، جو کہ وفات پاچکے ہیں، میری چار بہنیں اور والدہ بھی حیات ہیں، جو ان دونوں میں حصے دار ہیں۔ اس پر زکوٰۃ لاگو ہوتی ہے یا نہیں؟ جبکہ دُکان میں جو کاروبار کرتا ہوں وہ رقم اور مال بھی ایک طرح سے اُدھار ڈالتا ہوں، ہم کچھ لوگ کمیٹی (بیسی) ڈالتے ہیں اور پہلی کمیٹی بھی میری نکلی ہے، پھر اس سامان سے روزانہ کی کمیٹی ادا کرتا ہوں۔ علاوہ تقریباً ستر ہزار کا قرض دار بھی ہوں۔ اس کے علاوہ میری بیوی کے پاس سونا آٹھ یا دس تولے ہے، میں نے انہیں بھی کہا ہے کہ آپ زکوٰۃ ادا کریں، وہ کہتی ہیں اس میں آدھا میری بیٹی کا ہے۔ اس حال میں آپ بتائیں کہ مجھ پر زکوٰۃ فرض ہے یا نہیں؟ اگر ہے تو اسے کیسے ادا کروں؟ جبکہ میرے پاس رقم یکجا نہیں ہے، کیا قسطوں میں دے سکتا ہوں؟

جواب:۔

رہائشی مکان اور ذاتی کاروبار کی دُکان پر زکوٰۃ نہیں ہے۔(۱) البتہ اس میں جو موجود مال اگر اتنا ہے کہ قرض اُتار کر اگر آپ کے حصے میں اتنا مال آتا ہے کہ آپ صاحبِ نصاب بن جاتے ہیں، تو آپ پر زکوٰۃ ہے، ورنہ نہیں۔(۲) اسی طرح بیوی کے زیور پر زکوٰۃ ہے، ظاہر ہے آپ خود ہی ادا کریں گے۔ لیکن اگر بیوی نے آدھا زیور بیٹی کے نام کردیا ہے، اور اَب اِستعمال بھی نہیں کرتی اور دونوں کو ساڑھے سات تولے سے کم ملتا ہے، تو دونوں پر زکوٰۃ نہیں۔(۳)

  1. (۱) فلیس فی دور السکنٰی وثیاب البدن وأثاث المنازل ۔۔۔ زکٰوۃ۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۱۷۳، کتاب الزکاۃ)۔
  2. (۲) ومن کان علیہ دین یحیط بمالہ فلا زکٰوۃ علیہ ۔۔۔ وإن کان مالہ أکثر من دینہ زکی الفاضل إذا بلغ نصابًا بالفراغ عن الحاجۃ والمراد بہ دین لہ مطالب من جھۃ العباد۔ (الھدایۃ مع شرح البنایۃ ج:۴ ص:۱۶، طبع حقانیہ، کتاب الزکاۃ، وکذا فی الفتح ج:۱ ص:۴۸۶، کتاب الزکاۃ)۔
  3. (۳) وأما شروط وجوبھا ۔۔۔إلخ منھا کون المال نصاب فلا تجب فی أقل منہ۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۱۷۳)۔ وفی کل عشرین مثقال ذھب نصف مثقال۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۱۷۸، کتاب الزکاۃ، الباب الثالث فی زکاۃ الذھب)