بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

زکوٰۃ‌کا‌نصاب‌اور‌شرائط

جو‌مکان‌کرایہ‌پر‌دیا‌ہے،‌اس‌کے‌کرایہ‌پر‌زکوٰۃ‌ہے

سوال:۔

میرے پاس دو مکان ہیں، ایک مکان میں، میں خود رہائش پذیر ہوں، اور دُوسرا کرائے پر، تو آیا زکوٰۃ مکان کی مالیت پر ہے یا اس کے کرائے پر؟ اللہ تعالیٰ آپ کو اَجرِ عظیم نصیب فرمائے۔

جواب:۔

اس صورتِ میں زکوٰۃ مکان کی قیمت پر واجب نہیں، البتہ اس کے کرایہ پر جبکہ نصاب کو پہنچے تو زکوٰۃ واجب ہوگی۔(۱)

  1. (۱) إذا آجر دارہ أو عبدہ بمأتی درھم لَا تجب الزکٰوۃ ما لم یحل الحول بعد القبض فی قول أبی حنیفۃ فإن کانت الدار والعبد للتجارۃ وقبض أربعین درھمًا بعد الحول کان علیہ درھم بحکم الحول الماضی قبل القبض لأن اجرۃ دار التجارۃ وعبد التجارۃ بمنزلۃ ثمن مال التجارۃ فی الصحیح من الروایۃ۔ (قاضی خان علٰی ھامش الھندیۃ ج:۱ ص:۲۵۳)، وأیضًا: فلا زکٰوۃ علٰی مکاتب ۔۔۔ ولَا فی ثیاب البدن المحتاج إلیھا لدفع الحر والبرد، وأثاث المنزل ودور السکنٰی ونحوھا وکذٰلک الکتب وإن لم تکن لأھلھا إذا لم تنو للتجارۃ ۔۔۔إلخ۔ (الدر المختار ج:۲ ص:۲۶۴، کتاب الزکاۃ)۔