بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

زکوٰۃ‌کا‌نصاب‌اور‌شرائط

رہائش‌کے‌لئے‌خریدے‌ہوئے‌پلاٹ‌پر‌زکوٰۃ‌ہے؟

سوال:۔

ہم نے چند سال پہلے ایک پلاٹ رہائش کی غرض سے لیا تھا، پیسے کی کمی کی وجہ سے ہم اس پر گھر نہیں بنواسکے، اب ہم وہ پلاٹ بیچ کر ایک چھوٹا سا مکان لینا چاہ رہے ہیں، اس پلاٹ کے اچھے پیسے مل رہے ہیں، آپ سے پوچھنا یہ ہے کہ اس مکان پر بھی ہمیں زکوٰۃ دینی ہے یا نہیں؟ جبکہ پلاٹ بیچ کر جو مکان لیں گے وہ رہنے کی غرض سے لیں گے۔

جواب:۔

یہ پلاٹ اگر آپ نے رہائش کے لئے یعنی مکان بنانے کے لئے خریدا تھا تو جب تک آپ اس کو فروخت نہیں کردیتے اس وقت تک اس پر زکوٰۃ نہیں، البتہ فروخت کرنے کے بعد اس پر زکوٰۃ لاگو ہوگی بشرطیکہ آپ کا زکوٰۃ کا سال جہاں شروع ہوتا ہے اس وقت آپ اس کو بیچیں، یعنی زکوٰۃ کی رقم میں یہ بھی شامل ہوجائے۔(۱)

  1. (۱) فلیس فی دور السکنٰی وثیاب البدن وأثاث المنازل ودوّاب الرکوب ۔۔۔ زکٰوۃ۔ (عالمگیری ج:۱ ص: ۱۷۲، درمختار ج:۲ ص:۲۶۵)۔ ومن کان لہ نصاب فاستفاد فی أثناء الحول مالًا من جنسہ ضمہ إلٰی مالہ وزکاہ۔ (فتاویٰ عالمگیری ج:۱ ص:۱۷۵، کتاب الزکاۃ، الباب الأوّل فی تفسیرھا وصفتھا)۔