زکوٰۃکانصاباورشرائط
رہائشکےلئےخریدیگئیزمیناگرفروختکردیتوکیااسکیزکوٰۃدینیہوگی؟
سوال:۔
میں نے اپنی ذاتی رہائش کے لئے دو سال قبل زمین خریدی تھی کہ اس پر تعمیر کرکے رہائش اختیار کروں گا، اس کے علاوہ میرا کوئی مکان یا زمین نہیں ہے، میں یکم رمضان کو زکوٰۃ نکالتا ہوں، اس زمین کا سودا میں نے یکم رمضان سے پہلے ہی کرلیا، اور بیعانہ کی رقم لے لی اور بقیہ رقم ایک ماہ کے وعدے پر مل گئی۔ زمین کی فروخت کے بیع کے ۲۲ دن بعد میں نے رہائش کے لئے بنے ہوئے مکان کی خریداری کا سودا کرلیا، جو اس رقم سے جو کہ زمین کی فروخت سے حاصل ہوئی تھی، زیادہ رقم میں ہوا، اور اس کا بیعانہ خریداری مکان کے مالک کو دے دیا، اس شرط پر یہ کہ جو زمین کی فروخت کی رقم ملے گی، وہ آپ کو کل دے دُوں گا، اور بقیہ چھ ماہ کا عرصہ ادائیگی کے لئے طے ہوگیا۔ اب دریافت طلب مسئلہ یہ ہے کہ جو رقم میں نے بیعانہ کی اپنے پلاٹ کی فروخت کی لی، اس پر یا کل رقم پر جو پلاٹ کی فروخت سے ملی، اس پر زکوٰۃ دینا ہے یا مبرا ہے؟
جواب:۔
چونکہ وہ زمین فروخت کردی، اس لئے پوری زمین کی قیمت پر زکوٰۃ واجب ہے، واللہ اعلم!(۱)
- (۱) ومن کان لہ نصاب فاستفاد فی أثناء الحول مالًا من جنسہ ضمّہ إلٰی مالہ وزکاہ۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۱۷۵)۔

