بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

زکوٰۃ‌کا‌نصاب‌اور‌شرائط

کاروبار‌کی‌نیت‌سے‌خرید‌کردہ‌پلاٹوں‌پر‌زکوٰۃ‌ہے

سوال:۔

میرا جائیداد کی خرید وفروخت کا کاروبار ہے، میں نے جو پلاٹ خرید کر چھوڑ دئیے ہیں، کیا ان پر زکوٰۃ دینا ہوگی؟ نیز جو پلاٹ بچوں کے لئے خرید کر چھوڑ دئیے ہیں، کیا ان پر بھی زکوٰۃ ہے؟ اور زکوٰۃ قیمتِ خرید پر ہوگی یا آج جو زمین کی قیمت ہے اس پر؟

جواب:۔

جو پلاٹ بیچنے کی نیت سے لے رکھے ہیں، ان پر زکوٰۃ ہے، اور جس دن زکوٰۃ ادا کرنی ہو، اس دن کی قیمت کا اِعتبار ہوگا۔(۱) جو پلاٹ بچوں کے لئے لے کر رکھے ہیں، اگر ان کو بیچنے کی نیت نہ ہو تو ان پر زکوٰۃ نہیں۔(۲)

  1. (۱) الزکٰوۃ واجبۃ فی عروض التجارۃ کائنۃ ما کانت إذا بلغت قیمتھا نصابًا من الورق والذھب۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۱۸۸)، وأیضًا: وجاز دفع القیمۃ فی الزکٰوۃ ۔۔۔ وتعتبر القیمۃ یوم الوجوب وقالًا یوم الأداء ۔۔۔ وفی المحیط: یعتبر یوم الأداء بالْإجماع وھو الأصح۔ (الدر المختار مع الرد المحتار ج:۲ ص:۲۸۶، کتاب الزکاۃ)
  2. (۲) فلیس فی دور السکنٰی وثیاب البدن وأثاث المنازل زکٰوۃ۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۱۷۲، الباب الأوّل)۔