زکوٰۃکانصاباورشرائط
تجارتکےلئےمکانیاپلاٹکیمارکیٹقیمتپرزکوٰۃہے
سوال:۔
جو مکان یا پلاٹ اپنے پیسوں سے یہ سوچ کر خریدا ہو کہ بعد میں سوچیں گے، اگر رہنا ہوا تو خود رہیں گے ورنہ بیچ دیں گے، ان پلاٹ اور مکان کی تعداد اگر کئی ہو تو آیا زکوٰۃ واجب ہوگئی؟ اور اگر ہاں، تو قیمتِ خرید پر یا مارکیٹ ویلیو پر؟
جواب:۔
جو زمین یا پلاٹ خریدا جائے خریدتے وقت اس میں تین قسم کی نیتیں ہوتی ہیں، کبھی تو یہ نیت ہوتی ہے کہ بعد میں ان کو فروخت کردیں گے، اس صورت میں ان کی قیمت پر ہر سال زکوٰۃ فرض ہوگی،(۱) اور ہر سال مارکیٹ میں جو ان کی قیمت ہو اس کا اعتبار ہوگا، مثلاً: ایک پلاٹ آپ نے پچاس ہزار کا خریدا تھا، سال کے بعد اس کی قیمت ستر ہزار ہوگئی،، تو زکوٰۃ ستر ہزار کی دینی ہوگی۔
اور دس سال بعد اس کی قیمت پانچ لاکھ ہوگئی تو اب زکوٰۃ بھی پانچ لاکھ کی دینی ہوگی، الغرض ہر سال جتنی قیمت مارکیٹ میں ہو، اس کے حساب سے زکوٰۃ دینی ہوگی۔(۲)
اور کبھی یہ نیت ہوتی ہے کہ یہاں مکان بناکر خود رہیں گے، اگر اس نیت سے پلاٹ خریدا ہو تو اس پر زکوٰۃ نہیں۔(۳)
اسی طرح اگر خریدتے وقت نہ تو فروخت کرنے کی نیت تھی، اور نہ خود رہنے کی، اس صورت میں بھی اس پر زکوٰۃ نہیں۔(۴)
- (۱) وما اشتراہ لھا أی للتجارۃ کان لھا لمقارنۃ النیۃ بعقد التجارۃ ۔۔۔إلخ۔ لأن الشرط فی التجارۃ مقارنتھا لعقدھا وھو کسب المال بالمال بعقد شراء ۔۔۔إلخ۔ (شامی ج:۲ ص:۲۷۲، کتاب الزکاۃ)۔
- (۲) وجاز دفع القیمۃ فی الزکٰوۃ ۔۔۔ وتعتبر القیمۃ یوم الوجوب وقالَا یوم الأداء ۔۔۔ ویقوم فی البلد الذی المال فیہ ۔۔۔ وفی المحیط یعتبر یوم الأداء بالْإجماع وھو الأصح۔ (الفتاوی الشامیۃ ج:۲ ص:۲۸۶)۔
- (۳) ومنھا فراغ المال عن حاجۃ الأصلیۃ فلیس فی الدور السکنٰی ۔۔۔ زکٰوۃ۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۱۷۲)۔
- (۴) (کما) اشتری خادمًا للخدمۃ وھو ینوی أنہ لو أصاب ربحًا یبیعہ فحال علیہ الحول لَا زکٰوۃ فیہ۔ (فتاویٰ قاضی خان علٰی ھامش الھندیۃ ج:۱ ص:۲۵۰، أیضًا الدر المختار ج:۲ ص:۲۷۲، کتاب الزکاۃ)۔

