بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

زکوٰۃ‌کا‌نصاب‌اور‌شرائط

تجارتی‌پلاٹ‌پر‌زکوٰۃ

سوال:۔

اگر مکانات کے پلاٹوں کی خرید و فروخت کی جائے تو کیا یہ مالِ تجارت کی طرح تصوّر ہوں گے، یعنی ان کی کل مالیت پر زکوٰۃ واجب ہے یا صرف نفع پر؟ اگر پلاٹ کئی سال بعد فروخت کیا گیا تو کیا ہر سال اس کی زکوٰۃ ادا کرنا ہوگی یا ایک دفعہ صرف سالِ فروخت میں؟

سوال:۔

کاروباری مقصد کے لئے اور اپنی رہائشی ضرورت کے علاوہ جو زمین اور مکانات خریدے اور قیمت بڑھنے پر فروخت کردئیے، اس سلسلے میں زکوٰۃ کے کیا اَحکامات ہیں؟

جواب:۔

اگر پلاٹوں کی خرید و فروخت کا کاروبار کیا جائے اور فروخت کرنے کی نیت سے پلاٹ خریدا جائے تو پلاٹوں کی حیثیت تجارتی مال کی ہوگی، ان کی کل مالیت پر زکوٰۃ ہر سال واجب ہوگی۔(۱)

جواب:۔

جو زمین، مکان یا پلاٹ فروخت کی نیت سے خریدا ہو، اس پر ہر سال زکوٰۃ واجب ہے، ہر سال جتنی اس کی قیمت ہو، اس کا چالیسواں حصہ نکال دیا کریں۔(۲)

  1. (۱) باب زکٰوۃ العروض وھو ما سوی النقدین ۔۔۔ الزکٰوۃ واجبۃ فی عروض التجارۃ کائنۃ ما کانت أی کائنۃ أیّ شیء یعنی من جنس ما تجب فیہ الزکٰوۃ کالسوائم أو غیرھا کالثیاب إذا بلغت قیمتا نصابًا من الورق أو الذھب یقومھا صاحب بما ھو أنفع للفقراء والمساکین منھما أی النصابین إحتیاطًا لحق الفقراء۔ (اللباب فی شرح الکتاب، باب زکٰوۃ العروض ج:۱ ص:۱۴۵)۔
  2. (۲) وما اشتراہ لھا أی للتجارۃ کان لھا المقارنۃ النیۃ لعقد التجارۃ ۔۔۔ فتجب الزکٰوۃ لِاقتران النیۃ بالعمل۔ (الدر المختار ج:۲ ص:۲۷۲، ۲۷۳)، وکذٰلک فی الأشباہ والنظائر ج:۱ ص:۳۰ القاعدۃ الأولٰی: ۔۔۔ قالوا وتشترط نیۃ التجارۃ فی العروض ولَا بد أن تکون مقارنۃ للتجارۃ ۔۔۔إلخ۔ (طبع إدارۃ القرآن قدیم)۔