زکوٰۃکانصاباورشرائط
خریدشدہپلاٹپرزکوٰۃکبواجبہوگی؟
سوال:۔
اگر ایک پلاٹ (زمین) لیا گیا ہو اور اس کے لئے کچھ ارادہ نہیں کیا کہ آیا اس میں ہم رہیں گے یا نہیں تو اس سلسلے میں زکوٰۃ کے لئے کیا حکم ہے؟
جواب:۔
پلاٹ اگر اس نیت سے لیا گیا تھا کہ اس کو فروخت کریں گے، تب تو وہ مالِ تجارت ہے، اور اس پر زکوٰۃ واجب ہوگی،(۱) اور اگر ذاتی ضرورت کے لئے لیا گیا تھا تو اس پر زکوٰۃ نہیں۔(۲) اور اگر خریدتے وقت تو فروخت کرنے کی نیت نہیں تھی، لیکن بعد میں فروخت کرنے کا ارادہ ہوگیا تو جب تک اس کو فروخت نہ کردیا جائے اس پر زکوٰۃ واجب نہیں۔(۳)
- (۱) ایضاً حاشیہ : وما اشتراہ لھا أی...الخ
- (۲) ایضاً حاشیہ: ومنھا (أی من شرائط...الخ
- (۳) لَا یبقی للتجارۃ ما أی عبد مثلًا اشتراہ لھا فنوی بعد ذٰلک خدمتہ ثم ما نواہ للخدمۃ لَا یصیر للتجارۃ وإن نواہ لھا ما لم یبعہ بجنس ما فیہ الزکٰوۃ۔ (الدر المختار ج:۲ ص:۲۷۲، کتاب الزکاۃ)۔

