زکوٰۃکانصاباورشرائط
گزشتہسالکیغیراداشدہزکوٰۃکامسئلہ
سوال:۔
میرا مسئلہ یہ ہے کہ میں باقاعدگی سے ہر سال زکوٰۃ ادا کرتا ہوں، اس سال بھی میری نیت بالکل صاف تھی کہ زکوٰۃ ادا کی جائے گی، چونکہ زکوٰۃ دینے کے لئے اوّلین شرط ہے کہ زکوٰۃ کے مہینے میں حساب ہر حال میں کرلیا جائے، مگر زکوٰۃ کے آخری دنوں میں یعنی مہینے کے آخری دس پندرہ دنوں میں ایک پولیس کیس مجھ پر ہوگیا، جس کی بھاگ دوڑ کی وجہ سے زکوٰۃ کے مہینے میں حساب نہ کرسکا، اب آپ سے دریافت کرنا ہے کہ اب جبکہ زکوٰۃ کا مہینہ ختم ہوچکا ہے، اب حساب ان دنوں میں کرکے زکوٰۃ ادا کرسکتا ہوں یا نہیں؟ اور وہ زکوٰۃ قابلِ قبول ہوگی یا نہیں؟ میں چاہتا ہوں کہ زکوٰۃ بہرحال ادا ہونی چاہئے یا اس کے علاوہ اگر دُوسرا طریقۂ کار قرآن اور سنت کی روشنی میں ہو، ویسا کیا جائے۔
جواب:۔
جب بھی موقع ملے حساب کرکے زکوٰۃ ادا کردیجئے، ادا ہوجائے گی۔ اور زکوٰۃ کا کوئی معین مہینہ نہیں ہوتا، بلکہ قمری سال کے جس مہینے کی جس تاریخ کو آدمی صاحبِ نصاب ہوا ہو، آئندہ سال اسی تاریخ کو اس کا نیا سال شروع ہوگا۔ اور گزشتہ سال کی زکوٰۃ اس کے ذمہ لازم ہوگی،(۱) خواہ کوئی مہینہ ہو، بعض لوگ رمضان کو اور بعض لوگ رجب کو زکوٰۃ کا مہینہ سمجھتے ہیں، یہ غلط ہے۔
- (۱) وتجب علی الفور عنہ تمام الحول حتّی یأثم بتأخیرہ من غیر عذر وفی روایۃ علی التراخی حتّی یأثم عند الموت۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۱۷۰، کتاب الزکاۃ، الباب الأوّل فی تفسیرھا وصفتھا)۔

