زکوٰۃکانصاباورشرائط
درمیانسالکیآمدنیپرزکوٰۃ
سوال:۔
میں نے دس ہزار روپے تجارت میں لگائے، اور ایک سال کے بعد ستمبر میں زکوٰۃ کی مطلوبہ رقم نکال دی، زکوٰۃ نکالنے کے دو ماہ بعد نومبر میں ایک پلاٹ بیچ کر مزید پندرہ ہزار روپے تجارت میں لگادئیے، اب میں مجموعی رقم پچّیس ہزار روپے پر آئندہ سال کس ماہ میں زکوٰۃ نکالوں؟ یا پھر الگ الگ رقم پر الگ الگ مہینے میں زکوٰۃ ادا کروں؟
جواب:۔
زکوٰۃ انگریزی مہینوں کے حساب سے نہیں نکالی جاتی، بلکہ اسلامی قمری مہینوں کے حساب سے نکالی جاتی ہے، جب پہلی رقم پر سال پورا ہوجائے تو پوری رقم جو درمیان سال میں حاصل ہوئی اس کی زکوٰۃ بھی لازم ہوجاتی ہے، ہر ایک کے لئے الگ الگ حساب نہیں کیا جاتا، اس لئے جب آپ کے سال پورا ہونے کی تاریخ آئے تو آپ پچّیس ہزار روپے اور اس پر جو منافع حاصل ہوا اس سب کی زکوٰۃ ادا کیجئے۔(۱)
- (۱) ومنھا (أی من شرائط وجوب الزکٰوۃ) حولَان الحول علی المال، العبرۃ فی الزکٰوۃ للحول القمری ۔۔۔ ومن کان لہ نصاب فاستفاد فی أثناء الحول مالًا من جنسہ ضمہ إلٰی مالہ وزکاہ سواء کان المستفاد من نمائہ أو لَا وبأی وجہ استفاد ضمہ۔ (الفتاوی الھندیۃ ج:۱ ص:۱۷۵، کتاب الزکاۃ، الباب الأوّل، طبع رشیدیہ)۔

