زکوٰۃکانصاباورشرائط
زکوٰۃکیادائیگیکاوقت
سوال:۔
زکوٰۃ کیا صرف ماہِ رمضان ہی میں نکالنا چاہئے یا اگر کسی ضرورت مند کو ہم زکوٰۃ کی مقرّرہ رقم ماہِ شعبان میں دینا چاہیں تو کیا نہیں دے سکتے؟ یہ اس لئے پوچھ رہی ہوں کہ کچھ لوگوں کو جن کو میں یہ رقم دیتی ہوں وہ کہتے ہیں کہ رمضان میں تقریباً ہر چیز مہنگی ہوجاتی ہے، اس لئے اگر رمضان سے پہلے مل جائے تو بچوں وغیرہ کے لئے چیزیں بآسانی خریدی جاسکتی ہیں۔
سوال:۔
کاروباری آدمی زکوٰۃ کس طرح نکالے؟ فرض کرلیا کہ رمضان المبارک ۱۴۰۰ھ میں ہمارے پاس ایک لاکھ روپیہ ہے، ۲۵۰۰ روپے زکوٰۃ دے دی، اب رمضان المبارک ۱۴۰۱ھ آنے والا ہے، ہمارے پاس ایک لاکھ بیس ہزار روپے ہوگئے، ایک سال میں بیس ہزار روپیہ نفع ہوگیا، تقریباً شوال کے ماہ میں پانچ ہزار، ذی الحجہ میں دس ہزار، اسی طرح ہر ماہ میں نفع ہوا اور سال کے آخر میں بیس ہزار روپے خالص نفع ہوگیا، اب زکوٰۃ کتنی رقم پر نکالیں اور کس طرح نکالیں؟ سنا ہے کہ رقم کو ایک سال پورا ہونا چاہئے۔
سوال:۔
زکوٰۃ کی ادائیگی کے لئے سال کی ایک تاریخ کا تعین ضروری ہے یا اس مہینے کی کسی تاریخ کو حساب کرلینا چاہئے؟
سوال:۔
زکوٰۃ سن عیسوی کے سال پر یا سن ہجری کے سال پر نکالی جائے؟
جواب:۔
زکوٰۃ کے لئے کوئی مہینہ مقرّر نہیں، اس لئے شعبان میں یا کسی اور مہینے میں زکوٰۃ دے سکتے ہیں، اور زکوٰۃ کا جو مہینہ مقرّر ہو اس سے پہلے زکوٰۃ دینا بھی صحیح ہے۔(۱)
جواب:۔
سال کے ختم ہونے پر جتنی رقم ہو اس کی زکوٰۃ ادا کی جائے، خواہ کچھ رقم چند روز پہلے ہی حاصل ہوئی ہو۔(۲) عوام کا خیال ہے کہ زکوٰۃ کا سال رمضان مبارک ہی سے شروع ہوتا ہے، اور بعض رجب کے مہینے کو ’’زکوٰۃ کا مہینہ‘‘ سمجھتے ہیں، حالانکہ یہ خیال بالکل غلط ہے۔
شرعی مسئلہ یہ ہے کہ سال کے کسی مہینے بھی جس تاریخ کو کوئی شخص نصاب کا مالک ہوا ہو، ایک سال گزرنے کے بعد اسی تاریخ کو اس پر زکوٰۃ واجب ہوجائے گی، خواہ محرّم کا مہینہ ہو یا کوئی اور، اور اس شخص کو سال پورا ہونے کے بعد اس پر زکوٰۃ ادا کرنا لازم ہے، اور سال کے دوران جو رقم اس کو حاصل ہوئی، سال پورا ہونے کے بعد جب اصل نصاب کی زکوٰۃ فرض ہوگی اس کے ساتھ ہی دورانِ سال حاصل ہونے والی رقم پر بھی زکوٰۃ فرض ہوگی۔
جواب:۔
اصل حکم یہ ہے کہ جس تاریخ سے آپ صاحبِ نصاب ہوئے، سال کے بعد اسی تاریخ کو آپ پر زکوٰۃ فرض ہوگی، تاہم زکوٰۃ پیشگی ادا کرنا بھی جائز ہے،(۳) اور اس میں تأخیر کی بھی گنجائش ہے،(۴) اس لئے کوئی تاریخ مقرّر کرلی جائے، اگر کچھ آگے پیچھے ہوجائے تب بھی کوئی حرج نہیں۔
جواب:۔
زکوٰۃ میں قمری سال کا اعتبار ہے، شمسی سال کا اعتبار نہیں،(۵) حکومت نے اگر شمسی سال مقرّر کرلیا ہے تو غلط کیا ہے۔
- (۱) ویجوز تعجیل الزکٰوۃ بعد ملک النصاب ولَا یجوز قبلہ کذا فی الخلاصۃ۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۱۷۶)۔
- (۲) ومن کان لہ نصاب فاستفاد فی اثناء الحول من جنسہ ضمہ إلٰی مالہ وزکاہ سواءً کان المستفاد من نمائہ أو لَا وبأی وجہ استفاد ضمہ سواء کان بمیراث أو ھبۃ أو غیر ذٰلک۔ (الجوھرۃ النیرۃ ج:۱ ص:۱۲۳، الفتاوی العالمگیریۃ ج:۱ ص:۱۷۵، کتاب الزکاۃ، الباب الأوّل فی تفسیرھا وصفتھا)۔
- (۳)ویجوز تعجیل الزکٰوۃ بعد ملک النصاب ولَا یجوز قبلہ کذا فی الخلاصۃ۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۱۷۶)۔
- (۴) وتجب علی الفور عنہ تمام الحول حتّی یأثم بتأخیرہ من غیر عذر وفی روایۃ علی التراخی حتّی یأثم عند الموت۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۱۷۰، کتاب الزکاۃ، الباب الأوّل فی تفسیرھا وصفتھا)۔
- (۵) العبرۃ فی الزکاۃ للحول القمری کذا فی القنیۃ۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۱۷۵، الباب الأوّل فی تفسیرھا وصفتھا)۔

