زکوٰۃکانصاباورشرائط
کیاالگالگزیوراتپرزکوٰۃہوگییااِکٹھے؟
سوال:۔
میرا اور میری امی کا تمام زیور ملاکر تقریباً نو تولے سونا ہے۔ پوچھنا یہ ہے کہ اس پر زکوٰۃ واجب ہے یا نہیں؟ کیونکہ ہمیں لوگوں نے کہا کہ شادی سے پہلے لڑکی ماں باپ کی ذمہ داری میں ہوتی ہے، اس لئے زکوٰۃ بھی ماں بیٹی کے زیور کو ملاکر دی جائے گی، جبکہ اپنے زیورات میں خود ہی اِستعمال کرتی ہوں اور الگ الگ میرے اور میرے والدہ کے زیورات کی مالیت اتنی نہیں بنتی کہ اس پر زکوٰۃ واجب ہو؟
جواب:۔
اگر دونوں کا الگ الگ زیور ساڑھے سات تولے سے کم ہے تو دونوں میں کسی پر زکوٰۃ فرض نہیں، البتہ اگر زیور کے ساتھ دونوں کے پاس یا کسی ایک کے پاس کچھ روپیہ پیسہ بھی رہتا ہے اور زیور کی قیمت روپے کے ساتھ ملاکر ساڑھے باون تولے چاندی کے برابر ہوجاتی ہے تو اس پر زکوٰۃ فرض ہوگی۔(۱)
- (۱) شرط وجوبھا ۔۔۔إلخ منھا کون المال نصابًا فلا تجب فی أقلّ منہ۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۱۷۲، کتاب الزکاۃ)، نصاب الذھب عشرون مثقالًا والفضۃ مائتا درھم۔ (حاشیۃ رد المحتار ج:۲ ص:۲۹۵، کتاب الزکاۃ)۔ وقیمۃ العرض للتجارۃ تضم إلی الثمنین۔ (حاشیۃ ردالمحتار ج:۲ ص:۳۰۳، کتاب الزکاۃ)۔

