زکوٰۃکانصاباورشرائط
اگرزیورکیزکوٰۃنہدیہو،اوررقمبھینہہوتوکیاکریں؟
سوال:۔
آج سے دس سال پہلے جب میری شادی ہوئی تو میرے شوہر زیرِ تعلیم تھے، عرصہ آٹھ برس سے میرے سسر صاحب ہمارے تمام اِخراجات اپنے ذمے لئے ہوئے ہیں۔ اب اللہ کی مہربانی سے میرے چار بچے ہیں، میرے والدین اور سسرال کی طرف سے ملاکر تقریباً دس تولے سونے کے زیور ملے۔ پہلا مسئلہ یہ پوچھنا ہے کہ کیا (ان حالات میں مجھ پر زکوٰۃ فرض تھی؟) جبکہ ذاتی طور پر میرے پاس دس روپے بھی نہ تھے؟
دُوسرا مسئلہ یہ ہے کہ اب میرے شوہر ملک سے باہر ہیں اور وہ مجھے صرف اتنا خرچ بھیجتے ہیں جن سے میرے بچوں کی تعلیم کے ضروری اِخراجات پورے ہوپاتے ہیں، میں اپنی ذات پر کوئی خاص خرچہ نہیں کرتی، بہت کفایت سے میں نے دو سال میں کچھ رقم بچاکر رکھی ہے، اب مجھے ان بچت کئے ہوئے پیسوں سے زکوٰۃ دینی ہے؟ یا اپنے شوہر سے زکوٰۃ کے لئے الگ رقم لوں؟ اور گزرے ہوئے دس سال کی زکوٰۃ مجھ پر باقی ہے یا صرف ان دو برسوں کی؟
جواب:۔
آپ کے میکے اور سسرال سے ملنے والا زیور اگر آپ کی ملکیت ہے تو آپ پر زکوٰۃ اسی وقت سے فرض ہے،(۱) اور گزشتہ دس سالوں کی زکوٰۃ آپ کے ذمے واجب الادا ہے۔ اگر آپ کے پاس پیسے نہیں تھے تو زیور کا چالیسواں حصہ ہر سال آپ کو اَدا کرنا چاہئے تھا۔ بہرحال اب دس سال کی زکوٰۃ کا حساب کرکے زکوٰۃ ادا کیجئے۔
- (۱) وفی کل عشرین مثقال ذھب نصف مثقال ۔۔۔ کان للرجال أو للنساء۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۱۷۹، کتاب الزکاۃ)۔ ومرادہ تملیک جزء من مالہ وھو ربع العشر أو ما یقوم مقامہ۔ (بحر الرائق ج:۲ ص:۲۱۶، کتاب الزکاۃ)۔ أیضًا: لم یختلفوا أن الحلی إذا کان فی ملک الرجل تجب فیہ الزکاۃ، فکذالک إذا کان فی ملک المرأۃ کالدراھم والدنانیر، وأیضًا لَا یختلف حکم الرجل والمرأۃ فیما یلزمھا من الزکاۃ فوجب ان لَا یختلفا فی الحلی۔ (أحکام القرآن للجصاص ج:۳ ص:۱۵۸، باب زکاۃ الحلی، طبع قدیمی)۔

