زکوٰۃکانصاباورشرائط
۱۳تولےسونااگرتینبیٹیوںمیںبرابرتقسیمکردوںتوکیازکوٰۃہوگی؟
سوال:۔
میرے پاس تقریباً ۱۲، ۱۳ تولے سونا ہے، جو زیورات کی شکل میں ہے، اور میرے معاشی حالات اس قابل نہیں ہیں کہ میں زکوٰۃ ادا کرسکوں، لیکن اس کے باوجود میں بہت ہی پابندی سے زکوٰۃ ہر مہینے دیتی ہوں اپنے جیب خرچ سے، کیونکہ میں قرآن شریف ترجمے سے بھی پڑھتی ہوں اور اس میں نماز اور زکوٰۃ کا جگہ جگہ ذِکر ہے، اس لئے مجھ پر ایک خوف رہتا ہے کہ چاہے کچھ بھی ہو، مجھے زکوٰۃ دینی ہے۔ میرے شوہر زکوٰۃ کے پیسے نہیں دیتے ہیں، بلکہ کبھی جو مجھے تھوڑے بہت پیسے بطور جیب خرچ کے دیتے ہیں، میں اس میں سے زکوٰۃ ادا کرتی ہوں، اب میں نے یہ سوچا تھا کہ کچھ زیورات بیچ کر ان سے کچھ گھر کی ضرورت کی چیزیں خرید لیتی ہوں، لیکن میرے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ میری تین بیٹیاں ہیں، جو جوان ہیں، سب نے مجھے یہ مشورہ دیا ہے کہ میں یہ زیور کے تین تین حصے کرکے یا ایک ایک سیٹ اپنی بیٹیوں کے نام کردوں، اس صورت میں تو میں زکوٰۃ سے بچ سکتی ہوں، کیونکہ مجھے زیور پہننے کا اتنا شوق بھی نہیں ہے، میں صرف بالی اور دو عدد ہلکی چوڑیاں پہنے رہتی ہوں، اس کے علاوہ کچھ نہیں اِستعمال کرتی۔ جنابِ عالی! اب آپ یہ بتائیں کہ میں اگر اپنی بیٹیوں کے نام کردوں یا انہیں دے دوں اور پھر زکوٰۃ نہ دوں تو میں گنہگار تو نہیں ہوں گی؟
جواب:۔
سونے کا نصاب ساڑھے سات تولے ہے،(۱) اس لئے ساڑھے سات تولے سے کم پر زکوٰۃ نہیں، بشرطیکہ اس کے ساتھ کچھ اور نقدی یا کوئی اور مال جس پر زکوٰۃ آتی ہے، موجود نہ ہو۔ اگر سونا ساڑھے سات تولے سے کم ہے مگر اس کے ساتھ کچھ چاندی بھی ہے، یا کچھ روپیہ پیسہ بھی پاس رہتا ہے، اور سونے کے ساتھ ملاکر ان سب کی قیمت ساڑھے باون تولے چاندی کے برابر ہوجاتی ہے، تب بھی زکوٰۃ واجب ہے۔(۲) اور اگر سونے کے ساتھ کوئی دُوسری نقدی نہیں، یا سونا اتنا کم ہے کہ سب کی مجموعی قیمت ساڑھے باون تولے چاندی کے برابر نہیں بنتی تو اس پر زکوٰۃ نہیں، لہٰذا اگر آپ یہ سونا بچیوں میں تقسیم کردیں اور ان کے پاس کوئی اور روپیہ پیسہ نہ رہا کرے تو ان پر زکوٰۃ نہیں ہوگی۔
- (۱) باب زکٰوۃ الذھب لیس فیما دون عشرین مثقالًا من الذھب صدقۃ لِانعدام النصاب، فإذا کانت عشرین مثقالًا شرعیًا ۔۔۔ وحال علیھا الحول ففیھا ربع العشر وھو نصف مثقال۔ (اللباب ج:۱ ص:۱۴۴)، تجب فی کل مائتی درھم خمسۃ دراھم وفی کل عشرین مثقال ذھب نصف مثقال۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۱۷۸، الباب الثالث فی زکاۃ الذھب)۔
- (۲) ویضم قیمۃ العروض التی للتجارۃ إلی الذھب والفضۃ للمجانسۃ من حیث الثمنیۃ لأن القیمۃ من جنس الدراھم والدنانیر وکذٰلک یضم الذھب إلی الفضۃ لجامع الثنمیۃ بالقیمۃ حتی یتم النصاب عند أبی حنیفۃ ۔۔۔إلخ۔ (اللباب فی شرح الکتاب ج:۱ ص:۱۴۵، کتاب الزکاۃ، باب زکاۃ العروض)۔

