بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

زکوٰۃ‌کا‌نصاب‌اور‌شرائط

نابالغ‌پر‌زکوٰۃ‌نہیں،‌جب‌ہوجائے‌گی‌تو‌زکوٰۃ‌دینی‌ہوگی

سوال:۔

میرے پاس ۱۰ گرام کی ۶ سونے کی چوڑیاں اور کوئی ۲۵۰۰ روپے کی بالیاں وغیرہ ہیں، عرصہ پانچ سال سے جب میری عمر بارہ سال تھی میری ملکیت میں ہیں، اس دوران ۲ یا ۳ہزار کئی بار جمع ہونے پر سال پورا ہونے سے پہلے خرچ ہوگئے، اب میرے پاس ایک ماہ سے ۲۵۰۰ روپے موجود ہیں، جن میں دو تین ماہ کے اندر اِضافہ کرکے چار ہزار کی چین بنوانا چاہتی ہوں، پوچھنا یہ ہے کہ مجھے پانچ سال کی کتنی زکوٰۃ ادا کرنی ہوگی؟ اور چار ہزار کی مالیت کے اِضافے کے بعد ہر سال کتنی زکوٰۃ ادا کی جائے گی؟ اگر آدمی بچپن سے ملکیت کا مالک ہو تو کس عمر میں پہنچ کر زکوٰۃ فرض ہوگی؟ میری کفالت میرے والد صاحب کرتے ہیں۔

جواب:۔

نابالغ بچے کے مال پر زکوٰۃ نہیں، ۹ برس کے بعد لڑکی اور ۱۲ برس کے بعد لڑکا بالغ ہوسکتا ہے، بشرطیکہ بالغ ہونے کی علامتیں ظاہر ہوجائیں، اور اگر کوئی علامت ظاہر نہ ہو تو ۱۵ برس پورے ہونے کے بعد لڑکا اور لڑکی دونوں شرعاً بالغ تصوّر کئے جائیں گے۔ پس اگر آپ ۱۵ برس کی عمر سے پہلے جوان ہوچکی تھیں (مثلاً: ایام شروع ہوچکے تھے) تو جوان ہونے کے وقت سے سال پورا ہونے پر زکوٰۃ فرض ہوگئی، ورنہ ۱۵ برس کے بعد تو ہر حال میں زکوٰۃ فرض ہوگی، جوان ہونے کے بعد جتنے سال گزرے ہوں اتنے سالوں کی زکوٰۃ آپ کے ذمے فرض ہے۔(۱)

  1. (۱) بلوغ الغلام بالْإحتلام والْإحبال والْإنزال والجاریۃ بالْإحتلام والحیض والحبل، فإن لم یوجد فیھما شیء فمتی یتم لکل منھما خمس عشرۃ سنۃ بہ یفتٰی۔ (درمختار ج:۲ ص:۱۵۳)، وشرط إفتراضھا عقل وبلوغ (قولہ وبلوغ) فلا تجب علٰی مجنون وصبی لأنھا عبادۃ محضۃ ولیسا مخاطبین بھا۔ (رد المحتار مع الدر المختار ج:۲ ص:۲۵۸)، وشرطہ أی شرط إفتراض أدائھا حولَان الحول وھو فی ملکہ وثمنیۃ المال کالدراھم والدنانیر لتعیینھما للتجارۃ بأصل الخلقہ فتلزم الزکٰوۃ کیفما أمسکھما ۔۔۔إلخ۔ (الدر المختار ج:۲ ص:۲۶۷، وأیضًا فتاویٰ دارالعلوم دیوبند ج:۶ ص:۴۴)۔