بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

زکوٰۃ‌کا‌نصاب‌اور‌شرائط

بچیوں‌کے‌نام‌پانچ‌پانچ‌تولہ‌سونا‌کردیا،‌اور‌ان‌کے‌پاس‌چاندی‌اور‌رقم‌نہیں،‌تو‌کسی‌پر‌بھی‌زکوٰۃ‌نہیں

سوال:۔

اگر کوئی شخص اپنی بچیوں کے نام الگ الگ پانچ پانچ تولے سونا رکھ دے تاکہ ان کے بیاہ شادی میں کام آسکے تو یہ شرعاً کیسا ہے؟ کیا مجموعہ پر زکوٰۃ واجب ہوگی یا یہ الگ الگ ہونے کی صورت میں واجب نہ ہوگی؟

جواب:۔

چونکہ زیور بچیوں کے نام کردیا گیا ہے، اس لئے وہ اس کی مالک بن گئیں، اس لئے اس شخص کے ذمہ اس کی زکوٰۃ نہیں، اور ہر ایک بچی کی ملکیت چونکہ حدِ نصاب سے کم ہے، اس لئے ان کے ذمہ بھی زکوٰۃ نہیں۔(۱) البتہ جو لڑکی بالغ ہو اور اس کے پاس اس زیور کے علاوہ بھی کچھ نقد روپیہ پیسہ خواہ اس کی مقدار کتنی ہی کم ہو، اور اس پر سال بھی گزر جائے تو اس لڑکی پر زکوٰۃ لازم ہوگی، کیونکہ جب سونے چاندی کے ساتھ کچھ نقدی مل جائے اور مجموعہ کی قیمت ساڑھے باون تولہ چاندی کے برابر ہوجائے تو زکوٰۃ فرض ہوجاتی ہے۔(۲) اور جو لڑکی نابالغ ہے اس کی ملکیت پر زکوٰۃ نہیں، جب تک کہ وہ بالغ نہیں ہوجاتی۔(۳)

  1. (۱) باب زکٰوۃ الفضۃ: لیس فیما دون مائتی درھم صدقۃ لعدم بلوغ النصاب فإن کانت مائتی درھم شرعی ۔۔۔ وحال علیھا الحول ففیھا ربع العشر خمسۃ دراھم۔ (اللباب فی شرح الکتاب ج:۱ ص:۱۴۳، کتاب الزکاۃ)۔
  2. (۲) وتضم قیمۃ العروض إلی الذھب والفضۃ وکذا یضم بعضھا إلٰی بعض وإن اختلفت أجناسھا وکذٰلک الذھب إلی الفضۃ بالقیمۃ حتّی یتم النصاب عند أبی حنیفۃ کما إذا کان معہ مائۃ درھم وخمسۃ مثاقیل قیمتھا مائۃ درھم فعلیہ الزکٰوۃ عند أبی حنیفۃ ۔۔۔إلخ۔ (الجوھرۃ النیرۃ ج:۱ ص:۱۲۸، کتاب الزکاۃ، کذا فی الشامی ج:۲ ص:۳۰۴، باب زکاۃ المال)۔
  3. (۳) وشرط إفتراضھا عقل وبلوغ (درمختار) (قولہ وبلوغ) فلا تجب علٰی مجنون وصبی لأنھا عبادۃ محضۃ ولیسا مخاطبین بھا۔ (فتاویٰ شامی ج:۲ ص:۲۵۸، کتاب الزکاۃ)۔