زکوٰۃکانصاباورشرائط
زیوراتپرگزشتہسالوںکیزکوٰۃ
سوال:۔
میرے پاس دس تولہ سونے کا زیور ہے، جو مجھے جہیز میں ملا تھا، اب ہمارے پاس اتنا پیسہ نہیں ہوتا کہ ہم اس کی زکوٰۃ ادا کریں، ہماری شادی کو بھی تقریباً بیس سال ہوگئے ہیں، اسی عرصے میں کسی سال ہم نے زکوٰۃ ادا کی اور کسی سال نہیں، اب میں یہ چاہتی ہوں کہ یہ سونا اپنے دونوں لڑکوں کے نام پر پانچ پانچ تولہ تقسیم کردوں، اس طرح پانچ تولے پر زکوٰۃ ادا نہیں کرنی پڑے گی، اب اس بارے میں تفصیل سے جواب عنایت کریں کہ یہ جائز ہے کہ نہیں؟
جواب:۔
گزشتہ جتنے سالوں کی زکوٰۃ آپ نے نہیں دی، وہ تو سونا فروخت کرکے ادا کردیجئے۔(۱) آئندہ اگر آپ اپنے بیٹوں کو ہبہ کردیں گی تو آپ پر زکوٰۃ نہیں ہوگی، بیٹے اگر صاحبِ نصاب ہوئے تو ان پر ہوگی، ورنہ ان پر بھی نہیں ہوگی۔(۲) لیکن بیٹوں کو ہبہ کرنے کے بعد اس زیور سے آپ کا کوئی تعلق نہیں ہوگا۔
- (۱) وسبب لزوم أدائھا توجہ الخطاب یعنی قولہ تعالٰیﵟ وَءَاتُواْ ٱلزَّكَوٰةَ ﵞ۔ أی الخطاب المتوجہ إلی المکلفین بالأمر بالأداء۔ (شامی ج:۲ ص:۲۶۷، کتاب الزکاۃ)، أیضًا: وشرطہ أی شرط افتراض أدائھا حولَان الحول وھو فی ملکہ وثمنیۃ المال کالدراھم والدنانیر لتعیینھما للتجارۃ بأصل الخلقۃ فتلزم الزکٰوۃ کیفما امسکھما ۔۔۔إلخ۔ (الدر المختار ج:۲ ص:۲۶۷، کتاب الزکاۃ، طبع ایچ ایم سعید، وأیضًا فتاویٰ دارالعلوم دیوبند ج:۶ ص:۴۴، طبع دیوبند)۔
- (۲) الزکٰوۃ واجبۃ علی الحر المسلم البالغ العاقل إذا ملک نصابًا فارغًا عن دین لہ مطالب وعن حاجتہ الأصلیۃ نامیًا ولو تقدیرًا ملکًا تامًّا وحال علیہ الحول ۔۔۔إلخ۔

