زکوٰۃکانصاباورشرائط
سونےکیزکوٰۃکیسالبہسالشرح
سوال:۔
فرض کریں میرے پاس نصاب کا سونا ۸ تولہ ہے، میں نے آٹھ تولے کی زکوٰۃ ادا کی، آئندہ سال تک میں نے اس میں کوئی اضافہ نہیں کیا، اور پچھلے سال کی زکوٰۃ نکال کر اب یہ سونا نصاب سے کم ہے، یعنی موجودہ تو آٹھ تولے ہی ہے، لیکن چونکہ میں آٹھ تولے کا چالیسواں حصہ ادا کرچکا ہوں تو وہ چالیسواں حصہ نکال کر پھر نصاب بنے گا یا ہر سال آٹھ تولے پر ہی زکوٰۃ دینا ہوگی؟ وضاحت کردیں۔
جواب:۔
پہلے سال آپ کے پاس آٹھ تولے سونا تھا، آپ نے اس کی زکوٰۃ اپنے پاس کے پیسوں سے ادا کردی، اور وہ سونا جوں کا توں آٹھ تولے محفوظ رہا، تو آئندہ سال بھی اس پر زکوٰۃ واجب ہوگی۔(۱) ہاں! اگر آپ نے سونا ہی زکوٰۃ میں دے دیا ہوتا اور سونے کی مقدار ساڑھے سات تولے سے کم ہوگئی ہوتی اور آپ کے پاس کوئی اور اثاثہ بھی نہ ہوتا، جس پر زکوٰۃ آتی ہو تو اس صورت میں آپ پر زکوٰۃ واجب نہ ہوتی۔(۲)
- (۱) الزکٰوۃ واجبۃ علی الحر المسلم البالغ العاقل إذا ملک نصابًا فارغًا عن دین لہ مطالب وعن حاجتہ الأصلیۃ نامیًا ولو تقدیرًا ملکًا تامًّا وحال علیہ الحول ۔۔۔إلخ۔
- (۲) ومدیون للعبد بقدر دینہ فیزکی الزائد إن بلغ نصابًا (قولہ ومدیون للعبد) الأولی ومدیون بدین یطالبہ بہ العبد یشمل دین دین الزکٰوۃ والخراج لأنہ ﷲ تعالٰی مع أنہ یمنع لأن لہ مطالبًا من جھۃ العباد۔ (رد المحتار مع الدر المختار ج:۱ ص:۲۶۳)۔

