بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

زکوٰۃ‌کا‌نصاب‌اور‌شرائط

سونے‌کی‌زکوٰۃ

سوال:۔

زکوٰۃ جو مال کے چالیسویں حصے کی صورت میں ادا کی جاتی ہے، اگلے سال اگر مال میں اضافہ نہیں ہوا تو کیا ادا کردہ مال کم کرکے دی جائے گی؟ مثلاً: ساڑھے سات تولہ سونا پر زکوٰۃ واجب ہے، موجودہ ریٹ کے حساب سے رقم کا اڑھائی فیصد ادا کردیتی ہوں۔ فرض کریں سونے کی مالیت ۰۰۰،۱۵ ہے، اور اڑھائی فیصد کے حساب سے ۳۲۵ روپے بنتی ہے، اب اگلے سال جبکہ میرے پاس سونا ساڑھے سات تولے سے زیادہ نہیں ہوا، کیا اس سونے پر زکوٰۃ ہوگی جو میں ۳۲۵ روپے کی صورت میں گزشتہ سال ادا کرچکی ہوں (کیونکہ مال کا چالیسواں حصہ تو نکل چکا ہے) یا اس سال بھی ساڑھے سات تولہ پر دوں گی؟ میری خالہ بیوہ ہے، اس کے پاس ساڑھے سات تولے سے زائد سونا ہے، کیا اس پر زکوٰۃ واجب ہے؟ وہ زکوٰۃ کی رقم لے سکتی ہیں؟ کیا ان کی یتیم بیٹی (نابالغ) کو رقم دینا صحیح ہے؟

جواب:۔

سال پورا ہونے کے بعد آدمی کے پاس جتنی مالیت ہے، اس پر زکوٰۃ لازم آتی ہے۔(۱) آپ کی تحریر کردہ صورت میں آپ نے ساڑھے سات تولے سونے پر ۳۲۵ روپے زکوٰۃ کے اس سال ادا کردئیے، لیکن سونے کی یہ مقدار تو آپ کے پاس محفوظ ہے اور سال پورا ہونے تک محفوظ رہے گی، اس لئے آئندہ سال بھی اس پوری مالیت پر زکوٰۃ لازم ہوگی۔(۲) البتہ اگر آپ سونے ہی کا کچھ حصہ زکوٰۃ میں ادا کردیتیں اور باقی ماندہ سونا بقدرِ نصاب نہ رہتا ہو تو اس صورت میں یہ دیکھنا ہوگا کہ اس سونے کے علاوہ آپ کے پاس کوئی ایسی چیز نہیں جس پر زکوٰۃ فرض ہے، مثلاً: نقد روپیہ یا تجارتی مال یا کسی کمپنی کے حصص وغیرہ، پس اگر سونے کے علاوہ کوئی اور چیز بھی موجود ہو جس پر زکوٰۃ آتی ہے اور وہ سونے کے ساتھ مل کر نصاب کی مقدار کو پہنچ جاتی ہے تو زکوٰۃ فرض ہوگی۔(۳) آپ کی خالہ کے پاس اگر ساڑھے سات تولہ سونا موجود ہو تو اس پر زکوٰۃ فرض ہے، اس کو زکوٰۃ دینا جائز نہیں۔(۴) یتیم نابالغ لڑکی اگر نصاب کی مالک نہ ہو تو اس کو زکوٰۃ دے سکتے ہیں۔(۵)

  1. (۱) الزکٰوۃ واجبۃ علی الحر المسلم البالغ العاقل إذا ملک نصابًا فارغًا عن دین لہ مطالب وعن حاجتہ الأصلیۃ نامیًا ولو تقدیرًا ملکًا تامًّا وحال علیہ الحول ۔۔۔إلخ۔ (اللباب فی شرحح الکتاب، کتاب الزکٰوۃ ج:۱ ص: ۱۳۶)۔
  2. (۲) وشرطہ أی شرط افتراض أدائھا حولَان الحول وھو فی ملکہ وثمنیۃ المال کالدراھم والدنانیر لتعیینھما للتجارۃ بأصل الخلقۃ فتلزم الزکٰوۃ کیفما أمسکھما ۔۔۔ إلخ۔ (الدر المختار ج:۲ ص:۲۶۷، کتاب الزکاۃ)۔
  3. (۳) (قولہ عکسہ) وھو ضم الفضۃ إلی الذھب، وکذا یصح العکس فی قولہ وقیمۃ العرض تضم إلی الثمنین۔ (الدر المختار ج:۲ ص:۳۰۳، باب زکاۃ المال)۔
  4. (۴) ولَا (یصرف) إلٰی غنی یملک قدر نصاب فارغ عن حاجۃ الأصلیۃ ۔۔۔إلخ۔ (الدر المختار ج:۲ ص: ۳۴۷) ۔
  5. (۵) ولَا یجوز دفعھا إلٰی ولد الغنی الصغیر کذا فی التبیین۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۱۸۹) ولَا إلٰی طفلہ ۔۔۔إلخ أی الغنی فیصرف إلی البالغ ولو ذکرا صحیحًا قھستانی، فأفاد أن المراد بالطفل غیر البالغ ذکرًا کان أو اُنثٰی فی عیال أبیہ أو لَا علی الأصح لما أنہ یعد غنیا بغناہ نھر۔ (شامی ج:۲ ص:۳۵۰، باب المصرف)۔