زکوٰۃکانصاباورشرائط
اِستعمالوالےزیوراتپرزکوٰۃ
سوال:۔
زیورات جو عموماً عورت کے استعمال میں رہتے ہیں، کیا ان پر زکوٰۃ ہے یا نہیں؟ کیونکہ استعمال میں رہنے والی اشیاء پر زکوٰۃ نہیں ہے، میرے ایک عزیز جدہ میں رہتے ہیں، ان کا بیان ہے کہ جدہ کے عرب لوگ زیور پر زکوٰۃ نہیں دیتے، اور کہتے ہیں کہ یہ روزمرّہ استعمال کی چیز ہے، وغیرہ۔
جواب:۔
اِمام ابوحنیفہؒ کے نزدیک ایسے زیورات پر بھی زکوٰۃ ہے جو اِستعمال میں رہتے ہوں، عربوں کے مسلک میں نہیں ہوگی۔(۱)
- (۱) وفی تبر الذھب والفضۃ وحلیھا والآنیۃ منھما زکٰوۃ التبر التی أخرجت من المعدن وھو غیر المضروب قولہ وحلیھا وقال الشافعی کل حلی معد للباس المباح لَا تجب فیہ الزکٰوۃ۔ (الجوھرۃ النیرۃ ج:۱ ص:۱۲۶، کتاب الزکاۃ)۔

