زکوٰۃکانصاباورشرائط
زیوراتکیزکوٰۃکیشرح
سوال:۔
۱:عورتوں کے پہننے کے زیور پر زکوٰۃ کی شرح کیا ہے؟
۲:۔ زیورات کی قیمت موجودہ بازار کے نرخ پر لگائی جائے گی یا جس قیمت پر خریدے گئے ہیں؟
۳:۔ سات تولہ سے زائد اگر سونے کے زیورات ہوں تو پورے زیورات پر زکوٰۃ لگے گی یا سات تولہ اس میں سے کم کردئیے جائیں گے؟
جواب:۔
سونے چاندی کے زیورات کی قیمت لگاکر اڑھائی فیصد کے حساب سے زکوٰۃ ادا کی جائے، قیمت کا حساب زکوٰۃ واجب ہونے کے دن بازار کی قیمت سے ہوگا،(۱) پورے زیورات پر زکوٰۃ ہوگی، سات تولے کم کرکے نہیں۔(۲)
- (۱) وإن أدی القیمۃ تعتبر قیمتھا یوم الوجوب ۔۔۔إلخ۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۱۸۰، الباب الثالث فی زکاۃ الذھب)۔
- (۲) تجب فی کل مائتی درھم خمسۃ دراھم وفی کل عشرین مثقال ذھب نصف مثقال مضروبا کان أو لم یکن مصوغا أو غیر مصوغ حلیا کان للرجال أو للنساء تبرا کان أو سکۃ کذا فی الخلاصۃ۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۱۷۸، کتاب الزکاۃ، الباب الثالث، کذا فی الدر المختار ج:۲ ص:۲۹۸، باب زکاۃ المال)۔

