زکوٰۃکانصاباورشرائط
اگرپانچہزارروپیہہواورنصابسےکمسوناہوتوزکوٰۃکاحکم
سوال:۔
زکوٰۃ کس پر فرض ہے؟ اگر کسی شخص کے پاس پانچ ہزار روپیہ ہو اور نصاب سے کم سونا ہو تو کیا اس پر زکوٰۃ دینی پڑے گی؟ اگر ہاں تو کتنی؟
جواب:۔
چونکہ پانچ ہزار روپے اور سونا دونوں مل کر ساڑھے باون تولے یعنی ۳۵ء۶۱۲گرام چاندی کی مالیت سے بہت زیادہ ہیں، اس لئے اس شخص پر زکوٰۃ فرض ہے۔(۱) اس کو چاہئے کہ سونے کی ’’آج کے بھاؤ‘‘ سے قیمت لگالے اور اس کو پانچ ہزار میں جمع کرکے اڑھائی فیصد کے حساب سے زکوٰۃ ادا کردے۔(۲)
- (۱) وتضم قیمۃ العروض إلی الذھب والفضۃ وکذا یضم بعضھا إلٰی بعض وإن اختلفت أجناسھا وکذٰلک الذھب إلی الفضۃ بالقیمۃ حتّی یتم النصاب عند أبی حنیفۃ کما إذا کان معہ مائۃ درھم وخمسۃ مثاقیل قیمتھا مائۃ درھم فعلیہ الزکٰوۃ عند أبی حنیفۃ ۔۔۔إلخ۔ (الجوھرۃ النیرۃ ج:۱ ص:۱۲۸، کتاب الزکاۃ، کذا فی الشامی ج:۲ ص:۳۰۴، باب زکاۃ المال)۔
- (۲) وجاز دفع القیمۃ فی زکٰوۃ ۔۔۔ وتعبتر القیمۃ یوم الوجوب وقالَا یوم الأداء، وفی السوائم یوم الأداء إجماعًا وھو الأصح، ویقوم فی البلد الذی المال فیہ (قولہ وھو الأصح) ۔۔۔ وفی المحیط یعتبر یوم الأداء بالْإجماع وھو الأصح، فھو تصحیح للقول الثانی الموافق لقولھما، وعلیہ فاعتبار یوم الأداء یکون متفقًا علیہ عندہ وعندھما۔ (درمختار مع رد المحتار، کتاب الزکٰوۃ ج:۲ ص:۲۸۶، باب زکاۃ الغنم)۔

