زکوٰۃکانصاباورشرائط
زکوٰۃاندازاًدیناصحیحنہیںہے
سوال:۔
دُکان کی زکوٰۃ اندازاً ادا کرنا جائز ہے یا نہیں؟ یعنی اگر کپڑا ہے تو اس کو پورا ناپنا چاہئے یا اندازاً ادا کردیا جائے؟
جواب:۔
زکوٰۃ پورا حساب کرکے دینی چاہئے، اگر اندازہ کم رہا تو زکوٰۃ کا فرض ذمہ رہے گا، اگر پورے طور پر حساب کرنا ممکن نہ ہو تو زیادہ سے زیادہ کا اندازہ لگانا چاہئے۔(۱)
- (۱) المال الذی تجب فیہ الزکٰوۃ إن أدی زکٰوتہ من خلاف جنسہ أدی قدر قیمۃ الواجب إجماعًا۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۱۸۰، کتاب الزکاۃ، وأیضًا فتاویٰ دارالعلوم دیوبند ج:۶ ص:۴۴ طبع دیوبند)۔ أیضًا: أنہ یتحری فی مقدار المؤدی کما لو شک فی عدد الرکعات فما غلب علٰی ظنہ أنہ أداہ سقط عنہ وأدی الباقی ۔۔۔إلخ۔ (شامی ج:۲ ص:۲۹۵)۔

