بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

زکوٰۃ‌کا‌نصاب‌اور‌شرائط

جب‌نصاب‌کے‌برابر‌مال‌پر‌سال‌گزر‌جائے‌تو‌زکوٰۃ‌واجب‌ہوگی

سوال:۔

عمر کا ایسا کاروبار ہے کہ اسے روزانہ سو روپے بچت ہوتی ہے، وہ یہ سو روپے بینک میں رکھتا ہے، مثلاً: دس رجب سے عمر نے یہ پیسے جمع کرنے شروع کئے، اور دُوسرے سال دس رجب کو اس نے حساب کیا تو تقریباً ۰۰۰،۳۶ روپے تھے، اب ان پیسوں میں رمضان، شوال وغیرہ کے پیسے بھی ہیں، جن پر ابھی سال نہیں گزرا، اب سوال یہ ہے کہ آیا عمر دس رجب کو ۳۶ ہزار روپے کی زکوٰۃ اکٹھی نکالے گا یا دس رجب سے اڑھائی روپے روزانہ نکالے گا؟ کیونکہ اس کی روزانہ بچت سو روپیہ ہے، کیا اکٹھی زکوٰۃ نکالنے سے وہ دُوسرے رجب تک زکوٰۃ سے مستثنیٰ ہوجائے گا اور یوں اس کی زکوٰۃ ادا ہوجائے گی، جب کہ مالِ زکوٰۃ پر سال گزرنا شرط ہے؟

جواب:۔

جب نصاب پر سال پورا ہوجائے تو سال کے بعد جتنا روپیہ ہو سب پر زکوٰۃ واجب ہوتی ہے، خواہ کچھ روپیہ درمیان سال میں حاصل ہوا ہو۔ پورے سال کی زکوٰۃ کا حساب ایک ہی وقت کیا جاتا ہے، الگ الگ دنوں کا حساب نہیں کیا جاتا۔(۱) مثلاً: آپ نے جو صورت لکھی ہے ایک شخص نے دس رجب کو سو روپے روزانہ جمع کرنے شروع کئے، اگلے سال دس رجب کو اس کے پاس ۰۰۰،۳۶روپے ہوگئے، اس کا سال اس وقت سے شروع ہوگا جب اس کی اتنی رقم جمع ہوجائے جو ساڑھے باون تولے (۳۵ء۶۱۲گرام) چاندی کی مالیت کے برابر ہو، جس تاریخ کو اتنی مالیت جمع ہوگی اس سے اگلے سال اسی تاریخ کو جمع شدہ پوری رقم کی زکوٰۃ اس کے ذمہ واجب ہوجائے گی۔

  1. (۱) وشرط کمال النصاب ۔۔۔ فی طرفی الحول فی الْإبتداء للإنعقاد وفی الْإنتھاء للوجوب۔ (الدر المختار ج:۲ ص:۳۰۲، کتاب الزکاۃ، وأیضًا فی الحاشیۃ الطحطاوی علی الدر المختار ج:۱ ص:۴۰۹، طبع رشیدیہ)۔ أیضًا: ومنھا حولَان الحول علی المال، العبرۃ فی الزکاۃ للحول القمری، کذا فی القنیۃ۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۱۷۵)۔