بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

زکوٰۃ‌کا‌نصاب‌اور‌شرائط

سال‌کے‌دوران‌جتنی‌بھی‌رقم‌آتی‌رہے،‌لیکن‌زکوٰۃ‌اختتامِ‌سال‌پر‌موجود‌رقم‌پر‌ہوگی

سوال:۔

زکوٰۃ کے لئے رقم یا مال پر پورا سال گزر جانا ضروری ہے، جبکہ مالِ تجارت میں فائدہ سے جو اضافہ ہوتا ہے اس تمام پر بارہ ماہ کا پورا عرصہ نہیں گزرتا، مثلاً: ایک شخص کے پاس جنوری ۸۴ء تک کل سرمایہ ۲۰ہزار روپے تھا، جو تین ماہ تک اندازاً ۲۲ہزار ہوگیا، چھ ماہ گزرنے پر ۲۵ہزار روپے ہوگیا، نو ماہ گزرنے پر ۲۸ہزار ہوگیا، اور بارہویں مہینے کے اختتام تک اس کی رقم بڑھ کر ۳۰ہزار روپے ہوگئی، اب زکوٰۃ کس رقم پر واجب ہوگی؟ جبکہ وہ شخص ہمیشہ اپنی زکوٰۃ و دیگر آمدنی کے لئے حساب شمسی سال کے اختتام پر کرتا ہے۔

جواب:۔

یہاں دو مسئلے ہیں، ایک یہ کہ زکوٰۃ میں قمری سال کا اعتبار ہے، شمسی سال کا اعتبار نہیں۔(۱) اب یا تو حساب قمری سال کے اعتبار سے کرنا چاہئے، اور اگر شمسی سال کے اعتبار سے حساب کرنا ہی ناگزیر ہو تو دس دن کی زکوٰۃ مزید ادا کردینی چاہئے۔

دُوسرا مسئلہ یہ ہے کہ قمری سال کے ختم ہونے پر اس کے پاس جتنا مال ہو، اس سب پر زکوٰۃ واجب ہوجائے گی۔ مثلاً: کسی کا سالِ زکوٰۃ یکم محرّم سے شروع ہوتا ہے، تو اگلے سال یکم محرّم کو اس کے پاس جتنا مال ہو، اس پر زکوٰۃ ادا کرے، خواہ اس میں سے کچھ حصہ دو مہینے پہلے ملا ہو یا دو دن پہلے۔ الغرض سال کے دوران جو مال آتا رہے اس پر سال گزرنے کا حساب الگ سے نہیں لگایا جائے گا، بلکہ جب اصل نصاب پر سال پورا ہوگا تو سال کے اختتام پر جس قدر بھی سرمایہ ہو، اس پورے سرمائے پر زکوٰۃ واجب ہوجائے گی، خواہ اس کے کچھ حصوں پر سال پورا نہ ہوا ہو۔(۲)

  1. (۱) العبرۃ فی الزکٰوۃ للحول القمری کذا فی القنیۃ۔ (فتاویٰ عالمگیری ج:۱ ص:۱۷۵، کتاب الزکاۃ)۔
  2. (۲) ومن کان لہ نصاب فاستفاد فی أثناء الحول مالًا من جنسہ ضمہ إلٰی مالہ وزکاہ سواء کان المستفاد من نمائہ أو لَا، وبأی وجہ استفاد، ضمہ سواءً کان بمیراث أو ھبۃ أو غیر ذالک۔ (الجوھرۃ النیرۃ ج:۱ ص:۱۲۳، کتاب الزکاۃ، وأیضًا الفتاوی الھندیۃ ج:۱ ص:۱۷۵، کتاب الزکاۃ، الباب الأوّل فی تفسیرھا وصفتھا)۔