زکوٰۃکانصاباورشرائط
صنعتکاہرقابلِفروختمالبھیمالِزکوٰۃہے
سوال:۔
صنعت کے سلسلے میں کون سا مال زکوٰۃ سے مستثنیٰ ہے اور کون سے مال پر زکوٰۃ واجب ہے؟
جواب:۔
صنعت کار کے پاس دو قسم کا مال ہوتا ہے، ایک خام مال، جو چیزوں کی تیاری میں کام آتا ہے، اور دُوسرا تیار شدہ مال، ان دونوں قسم کے مالوں پر زکوٰۃ ہے، البتہ مشینری اور دیگر وہ چیزیں جن کے ذریعہ مال تیار کیا جاتا ہے، ان پر زکوٰۃ نہیں۔(۱)
- (۱) الزکٰوۃ واجبۃ فی عروض التجارۃ کائنۃ ما کانت إذا بلغت قیمتھا نصابًا من الورق والذھب کذا فی الھدایۃ۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۱۷۵، کتاب الزکاۃ)، وکذٰلک (لَا زکٰوۃ فی) آلَات المحترفین إلّا ما بقی أثر عینہ کالعصفر لدبغ الجلد ففیہ الزکٰوۃ۔ (الدر المختار ج:۲ ص:۲۶۵)، وأیضًا: ومنھا فراغ المال عن حاجتہ الأصلیۃ فلیس فی دور السکنی ۔۔۔ وسلاح الْإستعمال زکٰوۃ ۔۔۔ وکذا ۔۔۔ آلَات المحترفین، وھٰذا فی الآلَات التی ینتفع بنفسھا ولَا یبقٰی أثرھا فی المعمول۔ (الفتاوی العالمگیریۃ ج:۱ ص:۱۷۲، طبع رشیدیہ، وأیضًا فی البحر ج:۲ ص:۲۲۲، رد المحتار ج:۲ ص:۲۶۵)۔

