بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

زکوٰۃ‌کا‌نصاب‌اور‌شرائط

کاروبار‌میں‌قرضہ‌کو‌منہا‌کرکے‌زکوٰۃ‌دیں

سوال:۔

صورتِ حال یہ ہے کہ میں اسپیئر پارٹس کا کاروبار کرتا ہوں، میں کراچی سے مال لے کر آتا ہوں، اور آگے چھوٹے چھوٹے گاؤں میں سپلائی کرتا ہوں، میں جن سے مال لیتا ہوں ان کا قرضہ میرے اُوپر تقریباً ۰۰۰،۳۰روپے ہے، اور دُوسروں کے اُوپر میرا قرضہ تقریباً۰۰۰،۱۸روپے ہے، اور میرے پاس تقریباً ۰۰۰،۸۰روپے کا مال موجود ہے۔ سوال یہ ہے کہ میں کس طرح سے زکوٰۃ نکالوں؟ ایک جگہ میں نے پڑھا ہے کہ کل رقم میں سے قرض نکال کر جو بچے اس پر زکوٰۃ ادا کرنی پڑتی ہے، لیکن وہ رقم جو کہ دُوسروں پر قرضہ ہو، اس کے لئے کیا حکم ہے؟ اور وہ رقم جو میں نے قرضہ دے رکھی ہو؟

جواب:۔

جتنی مالیت آپ کے پاس موجود ہے، خواہ نقدی کی شکل میں ہو یا مالِ تجارت کی شکل میں، نیز آپ کے وہ قرضے جو لوگوں کے ذمہ ہیں، ان سب کو جمع کرلیا جائے، اس مجموعی رقم میں سے وہ قرضہ جات منہا کردئیے جائیں جو آپ کے ذمہ ہیں، منہا کرنے کے بعد جتنی مالیت باقی رہے، اس کی زکوٰۃ ادا کردیا کریں۔(۱) صورت مسئولہ میں ۶۸ ہزار روپے کی زکوٰۃ آپ کے ذمہ واجب ہے۔

  1. (۱) ومن کان علیہ دین یحیط بمالہ فلا زکٰوۃ علیہ ۔۔۔ وإن کان مالہ أکثر من دینہ زکی الفاضل إذا بلغ نصابًا بالفراغ عن الحاجۃ والمراد بہ دین لہ مطالب من جھۃ العباد۔ (الھدایۃ مع شرح البنایۃ ج:۴ ص:۱۶، ۱۷، کتاب الزکاۃ، طبع مکتبہ حقانیہ، وھٰذا فی فتح القدیر ج:۱ ص:۴۸۶، کتاب الزکاۃ، طبع دار صادر، بیروت)۔