زکوٰۃکانصاباورشرائط
قابلِفروختمالاورنفعدونوںپرزکوٰۃواجبہے
سوال:۔
مجھے دُکان چلاتے ہوئے تقریباً ۳ سال ہوگئے ہیں، دُکان کھولے تو زیادہ عرصہ ہوگیا ہے، لیکن پہلے بچوں کا سامان وغیرہ تھا، میرا سوال یہ ہے میں نے زکوٰۃ کبھی نہیں دی، آپ مجھے بتلائیے کہ میں کس طرح سے زکوٰۃ دوں؟ دُکان کے پورے مال پر زکوٰۃ ہے یا اس سے جو سالانہ منافع ہوتا ہے؟ اور اس سے پہلے جو میں نے زکوٰۃ نہیں دی، اس کا کیا کروں؟ کیونکہ میرے والد صاحب کا حج کا بھی فارم بھروادیا ہے، اس میں میں نے بھی کچھ رقم دی ہے۔
جواب:۔
آپ کی دُکان میں جتنا قابلِ فروخت سامان ہے، اس کا حساب لگاکر اور منافع جوڑ کر سال کے سال زکوٰۃ دیا کیجئے، اور اس کے ساتھ گھر میں جو قابلِ زکوٰۃ چیز ہو، اس کی زکوٰۃ بھی اس کے ساتھ ادا کردیا کیجئے۔(۱) گزشتہ سالوں کی زکوٰۃ بھی آپ کے ذمہ واجب الادا ہے، اس کو بھی حساب کرکے ادا کیجئے۔(۲) سال کے اندر جو رقم گھر کے مصارف اور دیگر ضروریات میں خرچ ہوجاتی ہے، اس پر زکوٰۃ نہیں۔(۳)
ومن کان لہ نصاب فاستفاد فی أثناء الحول مالًا من جنسہ ضمہ إلٰی مالہ وزکاہ سواء کان المستفاد من نمائہ أو لَا وبأی وجہ استفاد ضمہ سواء کان بمیراث أو ھبۃ أو غیر ذٰلک۔ (الجوھرۃ النیرۃ ج:۱ ص:۱۲۳، کتاب الزکاۃ، وأیضًا فی الفتاوی الھندیۃ ج:۱ ص:۱۷۵، کتاب الزکاۃ، الباب الأوّل فی تفسیرھا)۔
- (۱) الزکٰوۃ واجبۃ فی عروض التجارۃ کائنۃ ما کانت إذا بلغت قیمتھا نصابًا من الورق والذھب کذا فی الھدایۃ۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۱۷۹، الباب الثالث فی زکاۃ العروض)۔
- (۲) وسبب لزوم أدائھا توجہ الخطاب یعنی قولہ تعالٰیﵟ وَءَاتُواْ ٱلزَّكَوٰةَ ﵞ۔ أی الخطاب المتوجہ إلی المکلفین بالأمر بالأداء۔ (شامی ج:۲ ص:۲۶۷)، أیضًا: وشرطہ أی شرط افتراض أدائھا حولَان الحول وھو فی ملکہ وثمنیۃ المال کالدراھم والدنانیر لتعیینھما للتجارۃ بأصل الخلقۃ فتلزم الزکٰوۃ کیفما امسکھما ۔۔۔إلخ۔ (الدر المختار ج:۲ ص:۲۶۷، وأیضًا فتاویٰ دارالعلوم دیوبند ج:۶ ص:۴۴، طبع دیوبند)۔
- (۳) وشرط فراغہ عن الحاجۃ الأصلیۃ، لأن المال المشغول بھا کالمعدوم وفسرھا فی شرح المجمع لِابن الملک بما یدفع الھلاک عن الْإنسان ۔۔۔ کالنفقۃ ودور السکنی ۔۔۔إلخ۔ (البحر الرائق، کتاب الزکٰوۃ ج:۲ ص:۲۲۲)۔

