زکوٰۃکانصاباورشرائط
کاروبارمیںلگائیہوئیرقمپرزکوٰۃواجبہے
سوال:۔
میں خود ایک کمپنی میں نوکری کرتا ہوں، اس کے ساتھ میں نے کچھ پیسہ شراکت میں کاروبار میں لگایا ہوا ہے، جس سے کچھ آمدنی ہوجاتی ہے، جس سے ہمارا خرچ چلتا ہے، اور کچھ بچت (زیادہ سے زیادہ ۱۰، ۱۲ ہزار روپے سالانہ) ہوجاتی ہے، کیا کاروبار میں لگائے ہوئے پیسے پر زکوٰۃ دینا ہوگی جبکہ ہم بچت کی ہوئی رقم پر پورے سال کی زکوٰۃ دیتے ہیں؟
جواب:۔
کاروبار میں لگے ہوئے روپے پر بھی زکوٰۃ ہے۔(۱)
- (۱) الزکٰوۃ واجبۃ فی عروض التجارۃ کائنۃ ما کانت إذا بلغت قیمتھا نصابًا من الورق والذھب کذا فی الھدایۃ۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۱۷۹، الباب الثالث فی زکاۃ العروض)۔

