زکوٰۃکانصاباورشرائط
زکوٰۃکسحسابسےاداکریں؟
سوال:۔
یہ فرمائیں کہ زکوٰۃ جمع شدہ رقم پر ادا کی جاتی ہے، مثلاً: کسی ماہ ایک شخص کے پاس ۲ہزار روپے ہیں، تیسرے یا چوتھے ماہ میں وہ پندرہ سو روپے رہ جاتے ہیں، اور جب سال مکمل ہوتا ہے تو وہ رقم دو ہزار پانچ سو ہوتی ہے، تو اب کس حساب سے زکوٰۃ ادا کرنا ہوگی؟ تفصیل سے مطلع فرمائیں۔
جواب:۔
پہلے یہ اُصول سمجھ لیجئے کہ جس شخص کے پاس تھوڑی تھوڑی بچت ہوتی رہی، جب تک اس کی جمع شدہ پونجی ساڑھے باون تولہ (۳۵ء۶۱۲ گرام) چاندی کی مالیت کو نہ پہنچے، اس پر زکوٰۃ واجب نہیں، اور جب اس کی جمع شدہ پونجی اتنی مالیت کو پہنچ جائے (اور وہ قرض سے بھی فارغ ہو) تو اس تاریخ کو وہ ’’صاحبِ نصاب‘‘ کہلائے گا، اب سال کے بعد اسی قمری تاریخ کو اس پر زکوٰۃ واجب ہوجائے گی، اس وقت اس کے پاس جتنی جمع شدہ پونجی ہو (بشرطیکہ نصاب کے برابر ہو) اس پر زکوٰۃ واجب ہوگی۔(۱) سال کے دوران اگر وہ رقم کم و بیش ہوتی رہی اس کا اعتبار نہیں، بس سال کے اوّل و آخر میں نصاب کا ہونا شرط ہے۔(۲)
- (۱) الزکاۃ ۔۔۔ ھی واجبۃ والمراد بالوجوب الفرض ۔۔۔ علی الحر المسلم البالغ العاقل إذا ملک نصابًا فارغًا عن دین لہ مطالب وعن حاجتہ الأصلیۃ نامیًا ولو تقدیرًا ملکًا تامًّا وحال علیہ الحول۔ (اللباب فی شرح الکتاب للمیدانی، کتاب الزکٰوۃ ج:۱ ص:۱۳۶)، وفی الھندیۃ: ومنھا حولَان الحول علی المال العبرۃ فی الزکٰوۃ للحول القمری کذا فی القنیۃ۔ (فتاویٰ ھندیۃ ج:۱ ص:۱۷۵، کتاب الزکاۃ، الباب الأوّل فی تفسیرھا وصفتھا)۔
- (۲) وإذا کان النصاب کاملًا فی طرفی الحول فنقصانہ فیما بین ذٰلک لَا یسقط الزکٰوۃ کذا فی الھدایۃ۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۱۷۵، کتاب الزکاۃ، الباب الأوّل)۔

