بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

زکوٰۃ‌کا‌نصاب‌اور‌شرائط

تنخواہ‌کی‌رقم‌جب‌تک‌وصول‌نہ‌ہو،‌اس‌پر‌زکوٰۃ‌نہیں

سوال:۔

میں جس کمپنی میں کام کرتا ہوں، اس کمپنی پر میری کچھ رقم (تنخواہ کی مد میں) واجب ہے، موجودہ ظاہری صورتِ حال کے مطابق اس کے ملنے کی کوئی خاص اُمید نہیں، لیکن اگر اللہ پاک کے فضل و کرم سے یہ رقم مل جاتی ہے تو احقر کا ارادہ ہے کہ اس سے اپنی ذاتی ضرورت کے لئے ایک مکان یا فلیٹ خرید لے (میرے پاس اپنا ذاتی مکان نہیں ہے)، کیا مجھے اس رقم پر زکوٰۃ ادا کرنی چاہئے؟ واضح رہے کہ یہ رقم کمپنی پر ایک سال سے زیادہ کے عرصے سے واجب الادا ہے۔

جواب:۔

تنخواہ کی رقم جب تک وصول نہ ہو، اس پر زکوٰۃ نہیں۔(۱) تنخواہ کی رقم ملنے کے بعد اس پر سال پورا ہوگا تب اس پر زکوٰۃ واجب ہوگی،(۲) اور اگر آپ پہلے سے صاحبِ نصاب ہیں تو جب نصاب پر سال پورا ہوگا اس کے ساتھ اس تنخواہ کی وصول شدہ رقم پر بھی زکوٰۃ واجب ہوجائے گی۔(۳)

  1. (۱) کتاب الزکٰوۃ ۔۔۔ وأما شروط وجوبھا ۔۔۔ ومنھا الملک التام وھو ما اجتمع فیہ الملک والید وأما إذا وجد الملک دون الید کالصداق قبل القبض ۔۔۔ لَا تجب فیہ الزکٰوۃ۔ (فتاویٰ عالمگیری ج:۱ ص:۱۷۲)۔
  2. (۲) الزکاۃ ۔۔۔ ھی واجبۃ والمراد بالوجوب الفرض ۔۔۔ علی الحر المسلم البالغ العاقل إذا ملک نصابًا فارغًا عن دین لہ مطالب وعن حاجتہ الأصلیۃ نامیًا ولو تقدیرًا ملکًا تامًّا وحال علیہ الحول۔ (اللباب فی شرح الکتاب للمیدانی، کتاب الزکٰوۃ ج:۱ ص:۱۳۶)، وفی الھندیۃ: ومنھا حولَان الحول علی المال العبرۃ فی الزکٰوۃ للحول القمری کذا فی القنیۃ۔ (فتاویٰ ھندیۃ ج:۱ ص:۱۷۵، کتاب الزکاۃ، الباب الأوّل فی تفسیرھا وصفتھا)۔
  3. (۳) ومن کان لہ نصاب فاستفاد فی أثناء الحول مالًا من جنسہ ضمہ إلٰی مالہ وزکاہ ۔۔۔إلخ۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۱۷۵، وأیضًا فی الجوھرۃ النیرۃ، باب زکٰوۃ الخیل ج:۱ ص:۱۲۳)۔