بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

زکوٰۃ‌کا‌نصاب‌اور‌شرائط

نوٹ‌پر‌زکوٰۃ

سوال:۔

فی زمانہ تمام ممالک میں سکہ کے بجائے کاغذی نوٹ رائج ہیں، جن کی حیثیت وعدے یا اقرارنامے کی ہے، کیا یہ کاغذی نوٹ سکہ میں شمار ہوسکتا ہے؟ اگر سکے میں شمار نہیں ہوسکتا تو اس پر زکوٰۃ بھی واجب نہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے سکہ رائج الوقت پر زکوٰۃ لازم کی ہے۔

جواب:۔

نوٹ یا تو خود سکہ ہے یا مالیت کی رسید ہے، اس لئے زکوٰۃ تو نوٹوں پر ہر حال میں لازم ہے، البتہ نوٹ سے زکوٰۃ کے ادا ہونے کا مسئلہ محلِ نظر رہا ہے، بہت سے اکابر کی رائے میں یہ خود سکہ نہیں، بلکہ رسید ہے، اس لئے زکوٰۃ اس سے ادا نہیں ہوتی، اور بعض اہلِ علم کے نزدیک اس کو دورِ جدید میں سکہ کی حیثیت حاصل ہے، اس لئے زکوٰۃ ادا ہوجاتی ہے، پہلے قول پر اِحتیاط زیادہ ہے اور دُوسرے قول میں سہولت زیادہ ہے۔(۲)

  1. (۱) تجب فی کل مائتی درھم خمسۃ دراھم وفی کل عشرین مثقال ذھب نصف مثقال ۔۔۔ وکذا فی حق الوجوب یعتبر أن یبلغ وزنھا نصابًا ولَا یعتبر فیہ القیمۃ بالْإجماع ۔۔۔إلخ۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۱۷۸، ۱۷۹، الباب الثالث)۔
  2. (۲) دورِ حاضر کے اکثر مفتیانِ کرام کا اس بات پر اِتفاق ہوچکا ہے کہ اب یہ نوٹ قرض کی دستاویز (مالیت کی رسید) کی حیثیت نہیں رکھتے، بلکہ اس پر مروّجہ سکوں کے اَحکام جاری ہوں گے، تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو: فقہی مقالات ج:۱ ص:۳۰، طبع میمن اسلامک پبلشرز، قاموس الفقہ ج:۳ ص:۵۷ تا ۶۶۔