بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

زکوٰۃ‌کا‌نصاب‌اور‌شرائط

کیا‌نصاب‌سے‌زائد‌میں،‌نصاب‌کے‌پانچویں‌حصے‌تک‌چھوٹ‌ہے؟

سوال:۔

میرے پاس صرف سونے کے تین زیورات ہیں، ایک کا وزن ۷۸ تولہ، دُوسرے کا ۲ تولہ، تیسرے کا ایک تولہ ۵ماشہ۔ کل ۸۱ تولہ ۵ ماشہ کے زیورات ہیں، میں چاہتا ہوں کہ صرف چالیسواں کی شرح سے دو تولہ کی زکوٰۃ نکال دوں، اور وہ اس طرح کہ دو تولہ کا ایک زیور ہی اپنی غریب پھوپھی کو دے دوں، کیا ایسا ہوسکتا ہے؟ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ ۱۷ ماشہ پر زکوٰۃ معاف ہے، کیونکہ نصاب کے پانچواں حصہ سے کم ہے، مگر ایک صاحب فرماتے ہیں کہ دورِ حاضر میں ڈھائی فیصد کی شرح زکوٰۃ کی ہوگئی ہے، چالیسواں کی اصطلاح منسوخ ہوگئی، اب مجھ کو ڈھائی فیصد کے حساب سے کل نو سوستتر ماشے کا ڈھائی فیصد یعنی ۴۲۵ء۲۴ ماشہ دینا ہوگا نہ کہ صرف ۲۴ ماشہ یعنی ۲ تولہ؟ خلش دُور کریں۔

سوال:۔

میں بزرگوں سے سنتا چلا آرہا ہوں اور کتابوں میں پڑھتا ہوں کہ زکوٰۃ چاندی سونا پر ہے، اگر کسی کے پاس روپے ہوں یا نوٹ ہوں، تو ان کو بھی چاندی سونا میں حساب کرلو، اب پھر دیکھو ساڑھے باون تولہ چاندی یا ساڑھے سات تولہ سونا کے برابر ہوئے کہ نہیں؟ اگر ہوگئے تو صاحبِ نصاب ہوگئے اور اب اس کا چالیسواں حصہ زکوٰۃ نکال دو، یعنی چالیس سے تقسیم کردو اور اگر باقی کچھ بچ جائے تو اگر وہ نصاب کے پانچویں حصے سے کم ہے تو اس کو چھوڑدو، اس پر زکوٰۃ معاف ہے۔ میرے پاس مثلاً: ۱۲۰ تولہ چاندی کے زیورات ہیں، اور ۴۵۰ روپے بینک میں ہیں، جن پر ایک سال مکمل گزر گیا، اب ۴۵۰ روپے کا میں نے نو تولہ چاندی بشرح ۵۰ روپے فی تولہ بنالیا، گویا میرے پاس کل ایک سو انتیس تولے چاندی یا کل چھ ہزار چار سو پچاس روپے نقدی ہیں، اگر میں صرف ان کو چاندی سمجھ کر چالیسواں حصہ نکالتا ہوں تو صرف تین تولہ چاندی یعنی ایک سو پچاس روپے زکوٰۃ واجب ہے، ۹ تولہ بڑھتری پر جو نصاب کے پانچویں حصے سے کم ہے زکوٰۃ واجب نہیں، اگر میں دُوسرے طریقے سے یعنی ۶۴۵۰ روپے پر اڑھائی فیصد کے حساب سے نکالتا ہوں تو اس پر ۱۶۱ روپے ۲۵ پیسے زکوٰۃ آئے گی، بتائیے کون سی رقم ۱۵۰ روپے یا ۱۶۱ روپے ۲۵ پیسے صحیح ہیں؟ شکوک رفع فرمائیں۔

جواب:۔

ڈھائی فیصد اور چالیسواں حصہ تو ایک ہی چیز ہے، اصطلاحیں بدلتی تو رہتی ہیں، منسوخ نہیں ہوا کرتیں، دراصل اس مسئلے میں حضرت اِمام ابوحنیفہؒ اور صاحبین (اِمام ابویوسفؒ اور اِمام محمدؒ) کا اختلاف ہے کہ نصاب سے رقم کچھ زیادہ ہو تو زائد پر زکوٰۃ ہے یا نہیں؟ حضرت اِمامؒ کے نزدیک نصاب سے زائد جب پانچواں حصہ ہوجائے تو اس پر زکوٰۃ ہے، نصاب اور پانچویں حصے کے درمیان کی مالیت پر ’’چھوٹ‘‘ ہے، اسی طرح پانچویں حصے سے پانچویں حصے تک ’’چھوٹ‘‘ ہے، جب مزید پانچواں حصہ ہوجائے گا تب اس پر زکوٰۃ آئے گی۔

صاحبینؒ فرماتے ہیں کہ نصاب سے زائد جتنی بھی مالیت ہو، خواہ کم یا زیادہ اس پر زکوٰۃ ہے۔ پس حضرت اِمامؒ کے قول کے مطابق آپ کے ذمہ صرف اَسّی تولہ پر زکوٰۃ ہے اور زائد مقدار جو سترہ ماشے کی ہے، وہ چونکہ نصاب کے پانچویں حصے سے کم ہے، اس پر زکوٰۃ نہیں، جبکہ صاحبینؒ کے نزدیک اس زائد سترہ ماشے پر بھی اس کے حساب سے زکوٰۃ ہے۔(۱)

عوام کے لئے زیادہ باریکی میں جانا مشکل ہے، ان کے لئے سیدھی سی بات یہ ہے کہ کل مالیت کا چالیسواں حصہ (یا اڑھائی فیصد) ادا کردیا کریں، لہٰذا آپ دو تولے اپنی پھوپھی صاحبہ کو دے دیں، یہ اَسّی تولے کی زکوٰۃ ہوگئی، اور ایک تولہ ۱۵ ماشے جو زائد ہیں، ان کی قیمت لگاکر اس کا چالیسواں حصہ ادا کردیں۔

جواب:۔

جو سونا چاندی نصاب سے زائد ہو مگر نصاب کے پانچویں حصے سے کم ہو اس میں زکوٰۃ واجب ہونے یا نہ ہونے میں اختلاف ہے، احتیاط کی بات یہی ہے کہ اس کو بھی واجب سمجھ کر ادا کیا جائے، اس لئے آپ کی ذکر کردہ مثال میں ۱۶۱ روپے ۲۵پیسے ہی ادا کرنا چاہئے۔(۲)

  1. (۱) قولہ ثم فی کل خمس بحسابہ ۔۔۔ أفاد المصنف أنہ لَا شیء فیما نقص عن الخمس فالعفو من الفضۃ بعد النصاب تسعۃ وثلاثون فإذا ملک نصابًا وتسعۃ وسبعین درھما فعلیہ ستۃ والباقی عفو وھٰکذا ما بین الخمس إلی الخمس عفو فی الذھب وھٰذا عند أبی حنیفۃ وقالَا یجب فیما زاد بحسابہ من غیر عفو ۔۔۔إلخ۔ (البحر الرائق، باب زکٰوۃ المال ج:۲ ص:۲۴۳، طبع دار المعرفۃ بیروت)۔
  2. (۲) الزکٰوۃ واجبۃ فی عروض التجارۃ کائنۃ ما کانت إذا بلغت قیمتھا نصابًا من الورق والذھب۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۱۷۹، کتاب الزکاۃ، الباب الثالث فی زکاۃ الذھب والفضۃ والعروض)، لأنّ الواجب الأصلی عندھما ھو ربع عشر العین وانّما لہ ولَایۃ النقل إلی القیمۃ یوم الأداء فتعتبر قیمتھا یوم الأداء۔ (بدائع ج:۲ ص:۲۲، کتاب الزکاۃ)۔