زکوٰۃکانصاباورشرائط
پورےمالِتجارتپرزکوٰۃہےخواہکمبکتاہویازیادہ
سوال:۔
میں آگ بجھانے کے آلات خریدنے اور بیچنے کا کاروبار کرتا ہوں، ہمارا مالی سال رمضان سے شروع اور شعبان پر ختم ہوتا ہے۔ سال کے ختم پر مال کا حساب لگایا تو کل سامان کی مالیت دو کروڑ نکلی۔ بہت سا مال میرے پاس ایسا ہے جو میں بیچتا رہا، اور وہی مال خریدتا رہا، بہت سا مال ایسا ہے جو کہ پورا سال فروخت نہیں ہوا۔ معلوم یہ کرنا ہے کہ ہم زکوٰۃ کس مال کی نکالیں؟
۱:۔ وہ جس کی پورے سال خرید وفروخت ہوتی رہی۔
۲:۔ وہ جو پورا سال پڑا رہا اور فروخت نہیں ہوا۔
۳:۔ اس پورے سال کے مال کی، جس کا حساب لگانے کے بعد دو کروڑ مالیت ہوئی۔
۴:۔ زکوٰۃ مال کی قیمتِ خرید پر اَدا کرنا ہوگی یا قیمتِ فروخت پر؟
جواب:۔
زکوٰۃ تو پورے مالِ تجارت پر فرض ہے، خواہ وہ بکتا ہو یا نہ بکتا ہو، کم بکتا ہو یا زیادہ بکتا ہو، اور زکوٰۃ کے حساب کرنے میں نہ قیمتِ خرید کا اِعتبار ہے، نہ قیمتِ فروخت کا، بلکہ جس دن زکوٰۃ ادا کرنی ہو، اس دن بازار کی قیمت کا اِعتبار ہے، یعنی اس مال کی آج کے دن بازار میں کیا قیمت ہے؟ اس کے مطابق زکوٰۃ ادا کی جائے گی، واللہ اعلم!(۱)
- (۱) الزکٰوۃ واجبۃ فی عروض التجارۃ کائنۃ ما کانت إذا بلغت قیمتھا نصابًا من الورق والذھب۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۱۷۹، کتاب الزکاۃ، الباب الثالث فی زکاۃ الذھب والفضۃ والعروض)، لأنّ الواجب الأصلی عندھما ھو ربع عشر العین وانّما لہ ولَایۃ النقل إلی القیمۃ یوم الأداء فتعتبر قیمتھا یوم الأداء۔ (بدائع ج:۲ ص:۲۲، کتاب الزکاۃ)۔

