بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

زکوٰۃ‌کا‌نصاب‌اور‌شرائط

سونا‌ساڑھے‌سات‌تولے‌سے‌کم‌ہو‌اور‌کچھ‌رقم‌بھی‌ہو‌تو‌زکوٰۃ‌واجب‌ہے

سوال:۔

اس سے پہلے بھی پوچھا تھا کہ آج کل بہت سی خواتین کی ملکیت میں دو تولے یا تین تولے یا چار تولے یا پانچ تولے یا چھ تولے سونا ہوتا ہے، ساڑھے سات تولے سے کم کم اور ساتھ ہی ان کی ملکیت میں کچھ مالِ تجارت یا کچھ نقد رقم ضرور ہوتی ہی ہے، کوئی عورت ایسی ملنا مشکل ہے جس کی ملکیت میں دو یا تین روپے یا ہزار سے بھی کم پیسے موجود نہ ہو، یقینا موجود ہوتے ہیں، اور اکثر ایسی خواتین یہ سمجھتی ہیں کہ چونکہ ہماری ملکیت میں سونا ساڑھے سات تولے سے کم ہے، اس لئے ہم پر زکوٰۃ فرض نہیں ہے، اور وہ اپنے ایک یا دو یا تین یا چار یا پانچ یا چھ تولے سونے کی زکوٰۃ نہیں نکالتیں۔ حالانکہ مجھے ایک معتبر عالمِ دِین سے معلوم ہوا ہے کہ مذکورہ صورت میں بلاشبہ زکوٰۃ فرض ہے۔ برائے مہربانی آپ اس مسئلے پر تفصیل سے روشنی ڈالیں، تاکہ آپ کے جواب کے ذریعے بے شمار خواتین وحضرات زکوٰۃ نہ ادا کرنے کے گناہ سے بچ سکیں، کیونکہ وہاں کا عذاب بہت سنگین ہے، اللہ تعالیٰ آپ کو اس کی جزا دے، آمین۔

جواب:۔

آپ کو کسی نے مسئلہ صحیح بتایا ہے، جس شخص کے پاس ساڑھے سات تولے سے کم سونا ہو، لیکن اس کے ساتھ کچھ نقد روپیہ یا چاندی یا مالِ تجارت ہو، خواہ وہ کتنی ہی کم مقدار میں ہو، لیکن اس کو سونے کی قیمت کے ساتھ ملانے سے ساڑھے باون تولے چاندی کی مالیت بن جاتی ہو، تو اس پر زکوٰۃ فرض ہے، جس شخص نے ادا نہ کی ہو، وہ گزشتہ سالوں کا حساب کرکے ان کی بھی زکوٰۃ ادا کرے۔(۱)

  1. (۱) وتضم قیمۃ العروض إلی الثمنین والذھب إلی الفضۃ قیمۃ۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۱۷۹، کتاب الزکاۃ، الباب الثالث)۔ ولو ضم أحد النصابین إلی الآخر حتّی یؤدی کلہ من الذھب أو من الفضۃ لَا بأس بہ لٰـکن یجب أن یکون التقویم بما ھو أنفع للفقراء۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۱۷۹، البحر الرائق ج:۲ ص:۲۲۲، کتاب الزکاۃ)، ویضم الذھب إلی الفضۃ للمجانسۃ من حیث الثمنیۃ۔ (ھدایۃ ج:۱ ص:۱۹۶، کتاب الزکاۃ، باب زکاۃ المال)۔