زکوٰۃکانصاباورشرائط
زیوراوررقمملاکراگر۹ہزارروپےہوجائیںتوزکوٰۃاورقربانیواجبہے
سوال:۔
ہم لوگ غریب ہیں، جہیز اور مہر اس شخص نے واپس نہیں کیا، البتہ ایک ڈیڑھ تولے کا سیٹ میرے پاس ہے، اور کچھ ملاکر تقریباً ۹ہزار کا سونا میرے پاس موجود ہے۔ میرا بیٹا ہے اس کے اِخراجات میرے والدین برداشت کرتے ہیں، صرف اسکول فیس اس کے باپ کے ذمے ہے، میں اسکول میں جاب کرتی ہوں، ۵۰۰ روپے میری تنخواہ ہے، جوکہ سب ختم ہوجاتی ہے۔ مجھے آپ سے پوچھنا یہ ہے کہ مجھ پر زکوٰۃ فرض ہے یا نہیں؟ کیونکہ کچھ عرصے پہلے میں نے آپ کے کالم میں پڑھا تھا کہ (اگر آدمی کے پاس اتنی رقم ہو جو ساڑھے باوَن تولے چاندی کی مالیت کے برابر ہو تو اس پر زکوٰۃ فرض ہے، اور تین ہزار روپے کی رقم اس مالیت کے برابر ہے)۔ میرے پاس چونکہ ۹ہزار کا سونا ہے، اس لئے اس سال میں نے تین تین ہزار کا حساب کرکے زکوٰۃ نکالی تھی، اب اس لئے بھی ڈر لگتا ہے کہ اگر مجھ پر زکوٰۃ فرض نہ ہو تو اللہ تعالیٰ کہیں گے کہ میں نے جب چھوٹ دی ہے تو اس کا فائدہ کیوں نہیں اُٹھارہے؟ اگر زکوٰۃ فرض ہے تو کیا قربانی بھی فرض ہے؟ کیونکہ قربانی کا بھی یہی حکم ہے، لیکن شاید میرے حالات اس بات کی اجازت نہیں دیتے ہیں، سونے کے علاوہ اور کوئی رقم میرے پاس نہیں ہے۔
جواب:۔
یہ نو ہزار روپے کا زیور اگر آپ کی ملکیت ہے تو آپ پر زکوٰۃ (پورے نو ہزار کی) فرض ہے، اور قربانی بھی۔(۱)
- (۱) ولو ضم أحد النصابین إلی الآخر حتّی یؤدی کلہ من الذھب أو من الفضۃ لَا بأس بہ لٰـکن یجب أن یکون التقویم بما ھو أنفع للفقراء۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۱۷۹، کتاب الزکاۃ، الباب الثالث)۔ ان أحد النقدین یضم إلی الآخر وان العروض للتجارۃ تضم إلی النقدین للجنسیۃ باعتبار قیمتھا۔ (البحر الرائق ج:۲ ص:۲۲۲، کتاب الزکاۃ، باب زکاۃ المال)۔

