بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

زکوٰۃ‌کا‌نصاب‌اور‌شرائط

نصاب‌کی‌واحد‌شرط‌کیا‌ہے؟

سوال:۔

عام طور سے زکوٰۃ کے لئے شرطِ نصاب جو سننے میں آتا ہے، وہ ہے ساڑھے باون تولے چاندی یا ساڑھے سات تولے سونا یا ان کی مالیت۔ مسئلہ یہ ہے کہ ایک شخص جس کے پاس نہ سونا ہے، نہ چاندی، بلکہ پانچ ہزار روپے نقد ہیں، اسے کس نصاب پر عمل کرنا چاہئے، سونے پر یا چاندی پر؟ اور مالیت کا حساب لگائے تو کس چیز کے مطابق؟ اگر چاندی کی شرط پر عمل کرتا ہے تو وہ صاحبِ نصاب ٹھہرے گا، لیکن اگر سونے کی شرط پر عمل کرتا ہے تو ہرگز صاحبِ زکوٰۃ نہیں ٹھہرتا، لہٰذا وہ زکوٰۃ کی ادائیگی کا ذمہ دار قرار نہیں دیا جاسکتا۔ وضاحت فرمائیں کہ ایسے شخص کو کون سی راہ اختیار کرنی چاہئے؟

آج کل نصاب کے دو معیار کیوں چل رہے ہیں؟ جبکہ حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں تو ایک ہی معیار تھا، یعنی دو سو درہم (چاندی) کی مالیت بیس دینار (سونے) کی مالیت کے برابر تھے، آج ان کی مالیتوں میں زمین و آسمان کا فرق ہے، لہٰذا کس شرط پر عمل کرنا لازمی ہے؟ نصاب کی واحد شرط کیا ہے؟

جواب:۔

آپ کے سوال کے سلسلے میں چند باتیں سمجھ لینا ضروری ہے:

اوّل:۔ کس مال میں کتنی مقدار واجب الادا ہے؟ کس مال میں کتنے نصاب پر زکوٰۃ واجب ہوتی ہے؟ یہ بات محض عقل و قیاس سے معلوم نہیں ہوسکتی، بلکہ اس کے لئے ہمیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کی طرف رُجوع کرنا ناگزیر ہے۔ پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جس مال کا جو نصاب مقرّر فرمایا ہے اس کو قائم رکھنا ضروری ہے، اور اس میں رَدّ و بدل کی گنجائش نہیں، ٹھیک اسی طرح، جس طرح کہ نماز کی رکعات میں رَدّ و بدل کی گنجائش نہیں۔(۱)

دوم:۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کا نصاب دو سو درہم (یعنی ساڑھے باون تولے یعنی تقریباً ۳۵ء۶۱۲ گرام) اور سونے کا نصاب بیس مثقال (ساڑھے سات تولے یعنی تقریباً ۵ء۸۷ گرام) مقرّر فرمایا ہے۔(۲) اب خواہ سونے چاندی کی قیمتوں کے درمیان وہ تناسب جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں تھا قائم رہے یا نہ رہے، سونے چاندی کے ان نصابوں میں تبدیلی کرنے کا ہمیں کوئی حق نہیں، جس طرح فجر کی نماز میں دو کے بجائے چار رکعتیں اور مغرب کی نماز میں تین کے بجائے دو یا چار رکعتیں پڑھنے کا کوئی اختیار نہیں۔

سوم:۔ جس کے پاس نقد روپیہ پیسہ ہو یا مالِ تجارت ہو تو یہ ظاہر ہے کہ اس کے لئے سونے چاندی میں سے کسی ایک کے نصاب کو معیار بنانا ہوگا، رہا یہ کہ چاندی کے نصاب کو معیار بنایا جائے یا سونے کے نصاب کو؟ اس کے لئے فقہائے اُمت نے، جو درحقیقت حکمائے اُمت ہیں، یہ فیصلہ دیا ہے کہ ان دونوں میں سے جس کے ساتھ بھی نصاب پورا ہوجائے اسی کو معیار بنایا جائے گا، مثلاً: چاندی کی قیمت سے نصاب پورا ہوجاتا ہے، مگر سونے سے نصاب پورا نہیں ہوتا (اور یہی آپ کے سوال کا بنیادی نکتہ ہے)، تو چاندی کی قیمت سے حساب لگایا جائے گا، اور اس کی دو وجہیں ہیں، ایک یہ کہ زکوٰۃ فقراء کے نفع کے لئے ہے، اور اس میں فقراء کا نفع زیادہ ہے، دوم یہ کہ اس میں احتیاط بھی زیادہ ہے کہ جب ایک نقدی (یعنی چاندی) کے ساتھ نصاب پورا ہوجاتا ہے اور دُوسری نقدی (یعنی سونے) کے ساتھ پورا نہیں ہوتا تو احتیاط کا تقاضا یہ ہوگا کہ جس نقدی کے ساتھ نصاب پورا ہوجاتا ہے اسی کا اعتبار کیا جائے۔(۳)

  1. (۱) فی شرح المنار أن مقادیر الزکوات ثبتت بالتواتر کنقل القرآن وأعداد الرکعات ۔۔۔إلخ۔ (البحر الرائق، باب زکٰوۃ المال ج:۲ ص:۲۴۳، طبع دار المعرفۃ بیروت)۔
  2. (۲) (قولہ یجب فی مأتی درھم، وعشرون مثقالًا ربع العشر وھو خمسۃ دراھم فی المأتین ونصف مثقال فی العشرین ۔۔۔ لحدیث مسلم: لیس فیما دون خمس أوراق من الورق صدقۃ والأوقیۃ أربعون درھمًا کما رواہ الدارقطنی ولحدیث علیّ وغیرہ فی الذھب ۔۔۔إلخ۔ (البحر الرائق، باب زکٰوۃ المال ج:۲ ص:۲۴۲، طبع دار المعرفۃ بیروت)۔
  3. (۳) وفی عروض تجارۃ قیمۃ نصاب ۔۔۔ من ذھب أو ورق أی فضۃ مضروبۃ ۔۔۔ مقوما بأحدھما إن استویا فلو أحدھما أروج تعین التقویم بہ ولو بلغ بأحدھما نصابًا دون الآخر تعین ما یبلغ بہ ولو بلغ بأحدھما نصابًا وخمسًا وبالآخر أقل قومھا بالأنفع للفقیر۔ (درمختار ج:۲ ص:۲۹۹، کتاب الزکاۃ)۔ وفی اللباب فی شرح الکتاب ج:۱ ص:۱۴۵ الزکٰوۃ واجبۃ فی عروض التجارۃ کائنۃ ما کانت ۔۔۔ إذا بلغت قیمتھا نصابًا من الورق أو الذھب یقومھا صاحبھا بما ھو أنفع للفقراء والمساکین منھما أی النصابین، إحتیاطًا لحق الفقراء، حتّی لو وجبت الزکٰوۃ ان قومت بأحدھما دون الآخر قومت بما تجب فیہ دون الآخر۔ (اللباب، باب زکٰوۃ العروض ج:۱ ص:۱۴۵، طبع قدیمی)۔