زکوٰۃکانصاباورشرائط
زکوٰۃکنچیزوںپرفرضہے؟
سوال:۔
زکوٰۃ کس کس چیز پر فرض ہے؟
جواب:۔
زکوٰۃ مندرجہ ذیل چیزوں پر فرض ہے:
ا:۔ سونا، جبکہ ساڑھے سات تولہ (۴۷۹ء۸۷ گرام) یا اس سے زیادہ ہو۔
۲:۔ چاندی جبکہ ساڑھے باون تولہ (۳۵ء۶۱۲ گرام) یا اس سے زیادہ ہو۔(۱)
۳:۔ روپیہ، پیسہ اور مالِ تجارت، جبکہ اس کی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی (۳۵ء۶۱۲ گرام) کے برابر ہو۔(۲)
نوٹ:۔ اگر کسی کے پاس تھوڑا سا سونا ہے، کچھ چاندی ہے، کچھ نقد روپے ہیں، کچھ مالِ تجارت ہے، اور ان کی مجموعی مالیت ساڑھے باون تولے (۳۵ء۶۱۲ گرام) چاندی کے برابر ہے تو اس پر بھی زکوٰۃ فرض ہے۔ اسی طرح اگر کچھ سونا ہے، کچھ چاندی ہے، یا کچھ سونا ہے، کچھ نقد روپیہ ہے، یا کچھ چاندی ہے، کچھ مالِ تجارت ہے، تب بھی ان کو ملاکر دیکھا جائے گا کہ ساڑھے باون تولے چاندی کی مالیت بنتی ہے یا نہیں؟ اگر بنتی ہے تو زکوٰۃ واجب ہے، ورنہ نہیں۔ الغرض سونا، چاندی، نقدی، مالِ تجارت میں سے دو چیزوں کی مالیت جب چاندی کے نصاب کے برابر ہو تو اس پر زکوٰۃ فرض ہے۔(۳)
۴:۔ ان چیزوں کے علاوہ چرنے والے مویشیوں پر بھی زکوٰۃ فرض ہے،(۴) اور بھیڑ بکری، گائے، بھینس اور اُونٹ کے الگ الگ نصاب ہیں، ان میں چونکہ تفصیل زیادہ ہے، اس لئے نہیں لکھتا، جو لوگ ایسے مویشی رکھتے ہوں وہ اہلِ علم سے دریافت کریں۔
۵:۔ عشری زمین کی پیداوار پر بھی زکوٰۃ فرض ہے، جس کو ’’عشر‘‘ کہا جاتا ہے،(۵) اس کی تفصیلات آگے ملاحظہ کریں۔
- (۱) الفصل الأوّل فی زکٰوۃ الذھب والفضۃ: تجب فی کل مائتی درھم خمسۃ دراھم وفی کل عشرین مثقال ذھب نصف مثقال مضروبًا کان أو لم یکن۔ (فتاویٰ عالمگیری ج:۱ ص:۱۷۸، کتاب الزکاۃ، الباب الثالث)۔
- (۲) الزکٰوۃ واجبۃ فی عروض التجارۃ کائنۃ ما کانت إذا بلغت قیمتھا نصابًا من الورق والذھب کذا فی الھدایۃ۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۱۷۹، کتاب الزکاۃ، الباب الثانی، الفصل الثانی)۔
- (۳) وتضم قیمۃ العروض إلی الثمنین والذھب إلی الفضۃ قیمۃ کذا فی الکنز حتّی لو ملک مأۃ درھم وخمسۃ دنانیر قیمتھا مأۃ درھم تجب الزکٰوۃ عندہ خلافًا لھما۔ (الفتاوی العالمگیریۃ، کتاب الزکاۃ، الباب الثالث فی زکٰوۃ الذھب والفضۃ والعروض ج:۱ ص:۱۷۹، وھٰکذا فی رد المحتار ج:۲ ص:۳۰۳، والبحر، باب زکٰوۃ المال ج:۲ ص:۴۰۰)۔
- (۴) الباب الثانی فی صدقۃ السوائم، وفیہ خمسۃ فصول، الفصل الأوّل فی المقدمۃ: تجب الزکٰوۃ فی ذکورھا وإناثھا ومختلطھما والسائمۃ ھی التی تسام فی البراری ۔۔۔إلخ۔ (الفتاوی الھندیۃ، کتاب الزکٰوۃ ج:۱ ص:۱۷۶)۔
- (۵) (وقولہ تعالٰی) ﵟ وَمِمَّآ أَخۡرَجۡنَا لَكُم مِّنَ ٱلۡأَرۡضِۖ ﵞ: عموم فی ایجابہ الحق فی قلیل ما تخرجہ الأرض وکثیرہ فی سائر أصناف الخارجۃ منھا ویحتج بہ لأبی حنیفۃ رضی اللہ عنہ فی ایجابہ العشر ۔۔۔ مما تقصد الأرض بزراعتھا۔ (أحکام القرآن للجصاص، باب المکاسبۃ ج:۱ ص:۴۵۸، طبع سھیل اکیڈمی لَاہور، وأیضًا فی اللباب فی شرح الکتاب ج:۱ ص:۱۴۶، کتاب الزکاۃ، باب زکاۃ الزروع والثمار)۔

