بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

زکوٰۃ‌کس‌پر‌فرض‌ہے؟

اگر‌اَمانت‌کی‌رقم‌سے‌حکومت‌زکوٰۃ‌کاٹ‌لے؟

سوال:۔

دُوسرے شہروں کے لوگ اپنی تجارت اور امانت کے طور پر کسی کے پاس جو رقم جمع کراتے ہیں تو حفاظت کے خیال سے وہ شخص اپنے نام سے اس کو بینک میں رکھ دیتا ہے، اور وقتاً فوقتاً ان لوگوں کی ہدایت کے پیشِ نظر رقم نکالتا بھی رہتا ہے، تو حکومت کیا ان رقوم پر زکوٰۃ منہا کرنے کی حق دار ہے یا نہیں؟

جواب:۔

جس شخص کی امانت ہے، اس کے ذمہ زکوٰۃ فرض ہوگی۔(۱) مگر چونکہ حکومت آپ کے اکاؤنٹ سے زبردستی زکوٰۃ کاٹ لیتی ہے، اس لئے امانت رکھوانے والوں کو چاہئے کہ آپ کو زکوٰۃ ادا کرنے کا اختیار دے دیں، اس اختیار دینے کے بعد ان کی رقم سے جو زکوٰۃ کٹے گی وہ ان کی طرف سے ہوگی،(۲) اور آپ (زکوٰۃ کی رقم جو کاٹ لی گئی) اس کو منہا کرکے باقی رقم ان کو واپس کریں گے۔(۳)

  1. (۱) وسببہ أی سبب إفتراضھا ملک نصاب حولی ۔۔۔ تام ۔۔۔إلخ۔ (الدر المختار مع الرد ج:۲ ص:۲۵۹)۔
  2. (۲) إذا وکل رجلًا بدفع زکٰوۃ مالہ ونوی المالک عند الدفع إلی الوکیل فدفع الوکیل بلا نیۃ فإنہ یجزئہ لأن المعتبر نیۃ الآمر لأنہ المؤدی حقیقۃ۔ (البحر الرائق ج:۲ ص:۲۲۶، کتاب الزکاۃ)۔
  3. (۳) ولو أدی زکٰوۃ غیرہ بغیر أمرہ فبلغہ فأجاز لم یجز لأنھا وجدت نفاذًا علی المتصدق لأنھا ملکہ ولم یصر نائبًا عن غیرہ فنفذت علیہ ولو تصدق عنہ بأمرہ جاز ویرجع بما دفع ۔۔۔إلخ۔ (البحر الرائق ج:۲ ص:۲۲۷، کتاب الزکاۃ)۔