زکوٰۃکسپرفرضہے؟
نادہندقرضدارکودیگئیقرضکیرقمپرزکوٰۃ
سوال:۔
سائل سے عرصہ چار پانچ سال ہوئے اپنے ہی دوستوں یا رشتہ داروں نے کچھ رقم اُدھار لی تھی، جن کے واپس دینے کی کوئی مدّت طے ہوئی اور نہ کوئی تحریر لکھی گئی تھی۔ سائل نے اس عرصے میں کتنی ہی بار پیسوں کی واپسی کا مطالبہ کیا تو جواب ملا کہ کیا ہوا دے دیں گے ایسے ہی ہوتے ہوتے پانچ سال گزر گئے ہیں، لیکن پیسے واپس ملنے کی کوئی اُمید پختہ نظر نہیں آتی ہے، ہوسکتا ہے کہ مزید اور زیادہ عرصہ گزر جائے، نااُمید ہوکر میں نے بھی پیسے مانگنے چھوڑ دئیے ہیں۔ برائے مہربانی آگاہ فرمائیں کہ اس رقم کی زکوٰۃ جو عرصہ پانچ سال سے میرے پاس نہیں، دینی ہوگی یا نہیں؟
سوال:۔
میرے ایک دوست نے آج سے پانچ سال پہلے ڈیڑھ لاکھ روپیہ تجارت میں لگانے کے لئے لیا تھا، اس نے وہ تمام روپیہ خردبُرد کردیا، آج پانچ سال کے بعد اس نے مجھے پندرہ ہزار روپیہ واپس کیا ہے، کیا ان پندرہ ہزار روپیہ پر زکوٰۃ واجب ہے؟ کیا پانچ سال کی زکوٰۃ ادا کرنی چاہئے یا صرف اسی سال کی؟ اور جو باقی کا روپیہ اس نے ادا نہیں کیا، اس پر بھی زکوٰۃ ادا کرنی چاہئے؟
جواب:۔
جو رقم کسی کو قرض دی ہو اس پر زکوٰۃ لازم ہے، البتہ یہ اختیار ہے کہ چاہے تو ہر سال ادا کردیا کرے، یا وصول ہونے کے بعد گزشتہ تمام سالوں کی زکوٰۃ یکمشت ادا کردے۔(۱) البتہ اگر مقروض قرضہ سے منکر ہو اور قرض دہندہ کے پاس گواہ بھی نہ ہوں تو وصول ہونے سے پہلے اس کی زکوٰۃ لازم نہیں اور وصول ہونے کے بعد بھی گزشتہ سالوں کی زکوٰۃ نہیں۔(۲)
جواب:۔
اس پندرہ ہزار روپے پر گزشتہ تمام سالوں کی زکوٰۃ واجب ہے، اسی طرح جو روپیہ آپ کے دوست سے ملتا جائے اس کی گزشتہ سالوں کی زکوٰۃ ادا کرتے رہئے۔(۳)
- (۱) ولو کان الدین علٰی مقر ۔۔۔ فوصل إلٰی ملکہ لزم زکٰوۃ ما مضی۔ (تنویر الأبصار ج:۲ ص:۲۶۶، ۲۶۷)۔
- (۲) والدین المجحود إذا لم یکن علیہ بیّنۃ ثم صارت لہ بیّنۃ بعد سنین بأن أقرّ عند الناس لَا تجب علیہ الزکٰوۃ ھٰکذا فی التبیین۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۱۷۵، کتاب الزکاۃ، الباب الأوّل)۔
- (۳) ایضاً گذشته حاشيه: ولو کان الدین علٰی مقر ۔۔۔ الخ

