بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

زکوٰۃ‌کس‌پر‌فرض‌ہے؟

مشترکہ‌کاروبار‌کی‌زکوٰۃ

سوال:۔

دو اَفراد نے مشترکہ کاروبار اس شرط پر کیا کہ جس آدمی کی کاروبار میں رقم ہوگی، منافع کی رقم سے اس کو دو حصے ملیں گے، جبکہ دُوسرا شخص جو صرف کاروبار میں محنت کرے گا اس کو منافع کی رقم سے ایک حصہ۔ چند سال بعد پھر معاہدہ ہوا کہ مالک رقم نے دُوسرے ساتھی سے کہا کہ میں اب کاروبار میں پوری طرح ڈیوٹی انجام نہ دے سکوں گا، اس لئے رقم میری ہوگی، کاروبار تم اکیلے کو کرنا ہوگا۔ منافع کی رقم نصف نصف ہوگی۔ پوچھنا یہ چاہتا ہوں کہ ہم دُکان کا کرایہ، بجلی وغیرہ کا بل سب مشترکہ کاروبار سے بخوشی ادا کرتے ہیں، جبکہ مالک رقم شروع ہی سے اس کاروباری رقم کی جس کا وہ منافع کماتا ہے، زکوٰۃ بھی مشترکہ کھاتے سے دیتا ہے، جبکہ معاہدے میں بھی یہ بات نہیں تھی۔ جو شخص کاروبار چلا رہا ہے اس کو اِعتراض ہے کہ تم زکوٰۃ اپنے پاس سے دو، دُکان سے دینی ہے تو اپنے نام وہ رقم لکھو، مگر مالک کہتا ہے اس علاقے میں یہ رواج ہے کہ مشترکہ کاروبار ہی سے زکوٰۃ ادا کی جاتی ہے۔

جواب:۔

دونوں کو اپنے اپنے حصے کی زکوٰۃ ادا کرنی چاہئے، رقم والے شخص کا مشترکہ کھاتے سے زکوٰۃ ادا کرنا صحیح نہیں۔(۱)

  1. (۱) ولیس لکل واحد من الشریکین أن یؤدی زکٰوۃ مال الآخر إلّا بإذنہ۔ (الجوھرۃ النیرۃ ص:۲۹۲، کتاب الزکاۃ)۔