زکوٰۃکسپرفرضہے؟
تجارتکےلئےمنافعپردیگئیرقمکیزکوٰۃکسکےذمےہے؟
سوال:۔
جہاں تک میرے علم میں ہے، شرعی لحاظ سے اگر کسی شخص کی قابلِ زکوٰۃ رقم سال یا سال سے اُوپر کسی دُوسرے شخص کے پاس رہتی ہے اور اس عرصے کے بعد اسے وہ رقم واپس ہوتی ہے، تو اس تمام عرصے کی زکوٰۃ اس شخص پر واجب الادا ہوگی جو اس رقم کا مالک ہوگا۔ ایک دُکان دار نے جو بذاتِ خود صوم وصلوٰۃ کا پابند اور رمضان المبارک میں اِعتکاف میں بیٹھنے والا ہے، مجھ سے پچاس ہزار روپے کی رقم اپنی تجارت میں منقسمہ منافع کی شرائط پر لگانے کے لئے لی، مگر چند ماہ منافع ادا کرنے کے بعد من جملہ رقم مع منافع روک لی ہے، روکے ہوئے اب ڈیڑھ سال سے اُوپر ہوگیا ہے، اور یہ شخص دونوں میں سے مختلف جھوٹ و حیلہ بہانہ کچھ ادا کرنے کو تیار نہیں۔
سوال یہ ہے کہ ایسی رقم جو بلامعاوضہ دُوسرے کی تحویل میں رہے، اور جس سے وہ شخص خواہ تمام تجارتی فوائد حاصل کرتا رہا ہو، اس کل رقم پر زکوٰۃ کی ادائیگی کس پر واجب ہوگی؟ یہاں یہ بات عرض کرتا چلوں کہ جب تک منافع ملتا رہا، میں اس کی زکوٰۃ خود اَدا کرتا رہا ہوں۔
جواب:۔
اس رقم کی زکوٰۃ تو آپ کے ذمے واجب ہے، کیونکہ وہ رقم آپ کی ملکیت ہے، اور اس شخص کے پاس امانت ہے، زکوٰۃ مالک کے ذمے واجب ہوتی ہے، امین کے ذمے نہیں۔ البتہ آپ کو یہ اِختیار ہے کہ اس رقم کی زکوٰۃ سال کے سال ادا کرتے رہیں، یا جب وہ رقم وصول ہوجائے تو گزشتہ تمام سالوں کی زکوٰۃ یکمشت ادا کردیں۔(۱)
- (۱) ولو کان الدین علٰی مقر ۔۔۔ فوصل إلٰی ملکہ لزم زکٰوۃ ما مضٰی۔ (الدر المختار ج:۲ ص:۲۶۶، ۲۶۷)۔

