زکوٰۃکسپرفرضہے؟
قرضکیزکوٰۃکسکےذمہہے؟
سوال:۔
دس ماہ پیشتر زید نے بکر کو ۰۰۰،۲۰روپے قرضِ حسنہ دیا، ادائیگی کی مدّت لامحدود ہے، بکر نے ۰۰۰،۱۰روپے مکان خریدنے میں اور ۰۰۰،۱۰روپے کاروبار میں لگائے۔ رقم منافع کے ساتھ اب ۰۰۰،۱۰ روپے سے بڑھ کر ۰۰۰،۱۳ روپے ہوگئی ہے، کیا اس صورت میں زکوٰۃ واجب ہوگئی؟ اور اگر ہوگئی تو کس صورت میں؟
سوال:۔
اگر کچھ رقم کسی کو قرض دی ہوئی ہو تو کیا اس رقم پر زکوٰۃ دینی ہوگی؟
سوال:۔
میرے والدین نے اپنے مکان کی تعمیر کے سلسلے میں ۰۰۰،۲۰ روپے قرض لیا تھا، جو ابھی لوٹایا نہیں گیا ہے، اگرچہ وہ رقم ہمارے پاس جمع شدہ نہیں ہے، بلکہ مکان کی تعمیر وغیرہ کے سلسلے میں خرچ ہوگئی، تو کیا ہم پر اس کی زکوٰۃ دینا فرض ہوگی؟ کیونکہ اس سلسلے میں معلوم کرنے پر ہمیں یہ بات معلوم ہوئی کہ جس شخص کی رقم ہوگی وہی زکوٰۃ ادا کرنے کا ذمہ دار ہوگا۔ اس سلسلے میں ہم نے اس شخص سے بھی معلوم کیا جس کی یہ رقم ہے، تو انہوں نے صاف طور پر زکوٰۃ ادا کرنے سے انکار کیا، اور کہا کہ زکوٰۃ آپ خود ادا کریں کیونکہ یہ رقم آپ کے کام آئی ہے۔
جواب:۔
اُصول یہ ہے کہ جو رقم کسی کو قرض کے طور پر دی جائے، اس کی زکوٰۃ قرض دینے والے کے ذمہ ہوتی ہے، قرض لینے والے کے ذمہ نہیں ہوتی، پس زید نے جو بیس ہزار کی رقم بکر کو قرض دے رکھی ہے، اس کی زکوٰۃ زید کے ذمہ ہے۔(۱)
بکر کے پاس جو سرمایہ ہے خواہ وہ کاروبار میں لگا ہوا ہو یا سونے چاندی اور نقدی کی شکل میں اس کے پاس موجود ہو، اس تمام سرمایہ کی مجموعی رقم میں سے بیس ہزار روپے منہا کردیا جائے، جو اس کے ذمہ قرض ہے۔(۲) باقی سرمایہ اگر ساڑھے باون تولے چاندی کی مالیت کے برابر ہے تو اس کے ذمہ اس کی زکوٰۃ واجب ہے۔(۳)
جواب:۔
جی ہاں! اس رقم پر بھی ہر سال زکوٰۃ واجب ہے، البتہ آپ کو یہ اختیار ہے کہ ہر سال جب دُوسرے مال کی زکوٰۃ دیتے ہیں اسی کے ساتھ قرض پر دی ہوئی رقم کی زکوٰۃ دے دیا کریں، اور یہ بھی اختیار ہے کہ جب قرض وصول ہوجائے تو گزشتہ تمام سالوں کی زکوٰۃ، جو اس قرض کی رقم پر واجب ہوئی تھی، وہ یک مشت ادا کردیں۔(۴)
جواب:۔
قرض کی رقم کی زکوٰۃ قرض دینے والے کے ذمہ ہوتی ہے،(۵) قرض لینے والے کے ذمہ نہیں ہوتی،(۶) اس لئے اس رقم کی زکوٰۃ آپ لوگوں کے ذمہ نہیں، قرض دینے والے کو چاہئے کہ اس کی زکوٰۃ ادا کرے۔
- (۱) ولو کان الدین علٰی مقر ۔۔۔ فوصل إلٰی ملکہ لزم زکٰوۃ ما مضٰی۔ (الدر المختار ج:۲ ص:۲۶۶، ۲۶۷، کتاب الزکاۃ)۔ أیضًا: واعلم أن الدیون عند الْإمام ثلاثۃ: قوی، ومتوسط، وضعیف، فتجب زکاتھا إذا تم نصابًا وحال الحول لٰـکن لَا فورًا بل عند قبض أربعین درھمًا من الدین القوی کقرض، وبدل مال تجارۃ، فکلما قبض أربعین درھمًا یلزمہ درھم۔ (الدر المختار مع رد المحتار ج:۲ ص:۳۰۵، فتاویٰ ھندیۃ ج:۱ ص:۱۷۵، کتاب الزکاۃ)
- (۲) ومن کان علیہ دین یحیط بما لہ فلا زکٰوۃ علیہ ۔۔۔ وإن کان مالہ أکثر من دینہ زکی الفاضل إذا بلغ نصابًا۔ (ھدایۃ، کتاب الزکٰوۃ ج:۱ ص:۱۸۶)۔
- (۳) الزکٰوۃ واجبۃ فی عروض التجارۃ کائنۃ ما کانت إذا بلغت قیمتھا نصابا من الورق والذھب کذا فی الھدایۃ۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۱۷۹، کتاب الزکاۃ، الباب الثالث)ٍ
- (۴) ولو کان الدین علٰی مقر ۔۔۔ فوصل إلٰی ملکہ لزم زکٰوۃ ما مضٰی۔ (الدر المختار ج:۲ ص:۲۶۶، ۲۶۷)۔
- (۵)ولو کان الدین علٰی مقر ۔۔۔ فوصل إلٰی ملکہ لزم زکٰوۃ ما مضٰی۔ (الدر المختار ج:۲ ص:۲۶۶، ۲۶۷)۔
- (۶) لو استقرض ألفا فکفل عنہ عشرۃ ولکل ألف فی بیتہ وحال الحول فلا زکٰوۃ علٰی واحد منھم لشغلہ بدین الکفالۃ ۔۔۔إلخ۔ (البحر الرائق ج:۲ ص:۲۲۰، کتاب الزکاۃ)۔

