زکوٰۃکسپرفرضہے؟
شراکتوالےکاروبارکیزکوٰۃکسطرحاداکیجائےگی؟
سوال:۔
میرا ایک بھائی ہے، اس کو اس کے بھائی نے چھ ہزار روپے میں کھلونوں کی دُکان کھول دی ہے، اب اس کی زکوٰۃ کون ادا کرے، جبکہ یہ کاروبار شراکت میں ہوگیا، یعنی رقم ایک بھائی کی ہے اور چلاتا دُوسرا بھائی ہے، نفع برابر ہے۔ اس آدمی نے جس نے یہ دُکان کھولی ہے ایک قطعہ زمین برائے دُکان دس ہزار روپے میں خریدی ہے، اب اس کی زکوٰۃ کی کیا شکل ہوگی؟
جواب:۔
پہلے یہ سمجھ لیجئے کہ جب کسی کو کاروبار کے لئے مال دیا جائے اور نفع میں حصہ رکھا جائے تو شرعی اصطلاح میں اس کو ’’مضاربت‘‘ کہتے ہیں، اور ہمارے یہاں عام طور سے اس کو ’’شراکت‘‘ کہہ دیا جاتا ہے، جبکہ آپ نے بھی یہی لفظ استعمال کیا ہے۔ اس کاروبار میں ایک اصل رقم ہوتی ہے اور ایک اس کا منافع۔ اصل رقم کی زکوٰۃ اس کے اصل مالک کے ذمہ ہے، اور اس کے ذمہ منافع کے اس حصے کی زکوٰۃ بھی واجب ہے جو اُسے ملے گا،(۱) اور جو نفع پر کام کرتا ہے اگر اس کا نفع نصاب کی مقدار کو پہنچے اور اس پر سال بھی گزر جائے تو اپنے حصے کی زکوٰۃ اس پر بھی ہوگی۔ جو قطعہ زمین دُکان کے لئے خریدا ہے اس پر زکوٰۃ نہیں۔(۲) کھلونے اگر مجسّموں کی شکل کے ہوں تو ان کا کاروبار دُرست نہیں۔(۳)
- (۱) من کان لہ نصاب فاستفاد فی أثناء الحول مالًا من جنسہ ضمہ إلٰی مالہ وزکاہ ۔۔۔إلخ۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۱۷۵، کتاب الزکاۃ، الباب الأوّل)، أیضًا: واعلم أن الدیون عند الْإمام ثلاثۃ: قویٰ ومتوسط وضعیف، فتجب زکاتھا إذا تم نصابًا وحال الحول لٰـکن لَا فورًا بل عند قبض أربعین درھما من الدین القوی کقرض وبدل مال تجارۃ فکلما قبض أربعین درھما یلزمہ درھم ۔۔۔إلخ۔ (الدر المختار مع الرد ج:۲ ص:۳۰۵، باب زکاۃ المال)۔
- (۲) ولیس فی دور السکنی ۔۔۔ وسلاح الْإستعمال زکٰوۃ لأنھا مشغولۃ بالحاجۃ الأصلیۃ ولیست بنامیۃ أیضًا وعلٰی ھٰذا کتب العلم لأھلھا وآلَات المحترفین لما قلنا ۔۔۔إلخ۔ (ھدایۃ ج:۱ ص:۱۸۶، کتاب الزکاۃ)۔ وفارغ عن حاجتہ الأصلیۃ ۔۔۔ تحقیقًا ۔۔۔ أو تقدیرًا کالعین فإن المدیون محتاج إلٰی قضائہ ۔۔۔ کآلَات الحرفۃ وأثاث المنزل ۔۔۔إلخ۔ (شامی ج:۲ ص:۲۶۲، مطلب فی زکاۃ ثمن المبیع وفاء)۔
- (۳) وظاہر کلام النووی فی شرح مسلم الْإجماع علٰی تحریم تصویر الحیوان وقال: وسواء صنعہ لما یمتھن أو لغیرہ فصنعتہ حرام بکل حال لأن فیہ مضاھاۃ لخلق اللہ تعالٰی۔ (شامی ج:۱ ص:۶۴۷، مطلب إذا تردد الحکم بین ۔۔۔إلخ)۔

